اصحاب احمد (جلد 2) — Page 21
21 پڑھا ہے وہ میری اسوقت کی کیفیت تھی اور شیعیت کے متعلق جو میری حالت باقی رہ گئی تھی وہ تھی۔میں اس وقت اہل حدیث متبع سرسید احمد خاں بھی تھا مگر یہ سب تحقیقی حالت میں تھے۔چنانچہ سرسید احمد خاں کا وہ اثر جو پہلے تھا بعد میں ویسا نہ رہا نواب صاحب سرسید کی تعلیمی مساعی میں دل کھول کر چندہ دیا کرتے تھے۔اور سرسید کے مذاح تھے۔اور ان کے باہمی گہرے تعلقات تھے۔چنانچہ علی گڑھ کے سٹریکچی ہال کی تعمیر کیلئے جن ایک سوا حباب نے پانچ پانچ سور و پیہ چندہ دیا تھا ان کی یاد گار اس عمارت میں بصورت قطعات (SLABS) محفوظ کر دی گئی ہے۔ان میں تیسرے نمبر پر نواب صاحب کی یادگار ان الفاظ میں موجود ہے: پانصد روپیہ عطیہ خاں صاحب محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ بشکر یہ ولادت برخودار محمد عبد الرحمن خاں ۱۹ اکتوبر ۱۸۹۴ء براہین احمدیہ اور نواب صاحب مالیر کوٹلہ براہ راست حضرت اقدس سے تعلق کا آغاز ہونے سے قبل نواب محمد علی خاں صاحب کے خاندان کے ایک معز ز فرد کے حضرت اقدس سے ایک گونہ مراسم پیدا ہو چکے تھے۔جو بالآخر حضور کے مالیر کوٹلہ تشریف لے جانے کا موجب ہوئے۔تفصیل یہ ہے کہ جس وقت دیگر اسلامی ریاستوں کے صاحب اقتدار لوگوں نے براہین احمدیہ کے لئے مالی مدد نہ دی اور بے تو جنگی برتی تو اس گروہ میں سے صرف نواب ابراہیم علی خاں صاحب والئی مالیر کوٹلہ اور ایک دور کیسوں نے ہی کچھ توجہ کی۔چنانچہ حضور میر عباس علی صاحب کو اس بارہ میں تحریر فرماتے ہیں: ابتدا میں جب یہ کتاب چھپنی شروع ہوئی تو اسلامی ریاستوں میں توجہ اور مدد کیلئے لکھا گیا تھا بلکہ کتا بیں بھی ساتھ بھیجی گئی تھیں۔سواس میں سے صرف نواب ابراہیم علی خاں صاحب نواب مالیر کوٹلہ اور محمود خان صاحب رئیس چھتاری اور مدارالمہام جونا گڑھ نے کچھ مدد کی تھی۔دوسروں نے اوّل توجہ ہی نہیں کی اور اگر کسی نے کچھ وعدہ بھی کیا تو اس کا ایفاء نہیں کیا بلکہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھوپال سے ایک نہایت مخالفانہ خط لکھا۔“ اسی طرح طبقہ روساء کی بے تو جہگی کا شکوہ کرتے ہوئے زیر عنوان ”مسلمانوں کی نازک حالت اور