اصحاب احمد (جلد 2) — Page 640
640 ایک عرصہ سے آپ بیمار چلے آتے تھے مگر بیماری کی حالت میں کبھی گھبراہٹ۔چڑ چڑاہٹ اور ہائے وائے چیخ پکار نہ تھی۔بلکہ ایک کامل سکون کے ساتھ اس کا رزار زندگی میں مصروف رہتے۔احباب سے اس خندہ پیشانی سے ملتے اور استفسار حالات پر الحمد اللہ کہ کر بعض بے تکلف احباب سے تفصیل بھی بیان کر دیتے۔بیماری بھی انسان کے اصل اخلاق پر رکھنے کا ایک معیار ہے۔میں نے تو انہیں ہمیشہ حالت مرض میں بھی پُر سکون اور بہشتی زندگی بسر کرتے ہوئے پایا۔بہر حال بیماری کا سلسلہ تو بہت پرانا تھا آخر پیشاب میں خون آنے لگا۔اس کے لئے ہر قسم کے علاج کئے گے مگر کچھ افاقہ کبھی ہوا تو پھر دورہ میں شدّت ہوگئی۔بعض بعض اوقات تو حالت نازک ہو جاتی مگر پھر زندگی کی روواپس آ جاتی۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالے کو مومن کی جان لینے میں تامل ہوتا ہے یہ اسی قسم کا نظارہ تھا۔آخر وقت آگیا جو مقر رتھا۔اس سال کے شروع میں تکلیف زیادہ ہوگئی۔میں جلسہ سالانہ پر عیادت کے لئے گیا تو ایسے انداز سے ملاقات فرمائی اس مرتبہ لیٹے ہی رہے۔جس کا میری طبیعت پر فطرتاً ایک صدمہ رساں اثر ہوا۔میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔اس کے بعد آپ کی مرض میں شدت بڑھتی چلی گئی۔آپ کے لئے بیشمار دعائیں کی جاتی تھیں۔میں نے ۲۷/ ۲۸ جنوری ۱۹۴۵ء کی رات کو رویا دیکھا کہ ایک بڑا عظیم الشان مکان ہے جو ایک قصر ہے۔میں حضرت نواب صاحب کی عیادت کو گیا ہوں۔اس قصر پر بیشمار نہایت حسین جمیل بچوں کا اثر دہام ہے۔مجھے انہوں نے روکا۔میں کے کہا کہ نواب صاحب کی عیادت کو آیا ہوں۔انہوں نے کہا اب تم نہیں مل سکتے۔ان پر ہمارا پہرہ ہے۔میں کچھ ان کے بچپن کو دیکھ کر مسکرایا مگر انہوں نے سنجیدگی سے ہی کہا اور میں واپس چلا آیا۔مجھے اس خواب سے معلوم ہو گیا کہ نواب صاحب فرشتوں کے پہرہ میں ہے اور وہ مکان اس دنیا کا نہ تھا۔آخر ۱۰ر فروری ۱۹۴۵ء کو حضرت نواب صاحب کا انتقال ہو گیا۔انا الله وانا اليه راجعون - ۴۴۲ حضرت نواب صاحب ابتدائی موصیوں میں سے تھے۔آپ نے صدرانجمن احمدیہ قادیان کے نام اپنی آمد کے دسویں حصہ کی وصیت ۶ ستمبر ۱۹۰۶ء کو تحریر فرمائی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ آپ ابتدا سے ہی اس سے بڑھ چڑھ کر اموال خرچ کرتے تھے۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کے بیان کے مطابق حضرت نواب صاحب کی جاگیر کا کل رقبہ قریباً بارہ تیرہ سو مربع تھا جو پندرہ دیہات پر مشتمل تھا۔ان میں سے اکثر کے نام یہ ہیں : ۱- شیروانی کوٹ، ۲ بکس والا ۳ سکندر پوره، ۴ اوم پال، ۵۔بھینی کلاں، ۶- روڈ کہ،۔، -