اصحاب احمد (جلد 2) — Page 638
638 MM آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا جس کو میں نے تعظیم سے دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف بہ حرف پڑھا۔میری نظر میں طلب ثبوت اور استکشاف حق کا طریقہ کوئی نا جائز اور نا گوار طریقہ نہیں ہے بلکہ سعیدوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ورطہ تذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں۔لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے ناخوش نہیں ہوا بلکہ نہایت خوش ہے کہ آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امید بڑھتی ہے۔یہ طریق مومنانہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو کوئی اعتراض پیدا ہو تو فوراً پیش کرنا چاہیے۔اس کے بعد آتھم کی پیشگوئی کے وقت بھی آپ کو ایک طالب صادق کی طرح کچھ استفسار کی ضرورت پیش آئی مگر جلد اللہ تعالیٰ نے آپ پر حقیقت کو منکشف کر دیا اور اس کے بعد کبھی کوئی موقعہ ایسا نہ آیا کہ آپ کو استفسار کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو۔عملی زندگی میں بعض باتیں آپ دریافت کر لیتے اور ان کو اپنا دستور العمل قرار دیتے۔“ حضرت نواب صاحب کی زندگی ایک راسخ الاعتقاد و عملی مومن کی زندگی تھی۔وہ کوئی امر جس کی اسوہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر نہ ہو ا ختیار نہیں کرتے تھے اور عامل بالسنتہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں سرشار تھے اور آپ کے احکام کی اتباع اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔رشوت سے نفرت حضرت نواب صاحب کی زندگی میں ایک مرد مومن کی عملی زندگی کی تصویر ہے۔جب مالیر کوٹلہ ریلوے برانچ جاری ہوئی تو آپ نے اس لائن پر کچھ کام بطور ٹھیکہ لے لیا۔وہ کام دراصل آپ کے ایک خاص امتیاز کے اظہار کا موجب ہوا۔آپ سے چاہا گیا کہ ان انجینئروں یا افسروں کو جو اس کام کے پاس کرنے والے تھے کچھ روپیہ دیدیں آپ نے اسے رشوت قرار دیا اور صاف انکار کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو خطرناک مالی نقصان ہوا مگر آپ نے اس کی ذرا بھی پرواہ نہ کی۔وہ نہایت عالی حوصلہ اور مستقل مزاج بزرگ تھے۔اپنے مقام و مرتبہ کے باوجود طبیعت نہایت منکسرانہ واقع ہوئی تھی۔مسجد میں آتے تو بار ہا جو تیوں کی جگہ جانماز بچھا کر بیٹھ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو قادیان میں قیام کے لئے تحریک فرمائی اور آپ نے تعمیل کی یہانتک کہ آپ ہجرت کر کے آہی گئے۔ایثار نفس