اصحاب احمد (جلد 2) — Page 637
637 اس کشف کی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کوئی صراحت وقت یا نوعیت اقبال کی نہیں کی مگر اس میں ایک کلید بیان کی ہے جس کو واقعات نے صحیح ثابت کر دیا۔حضرت صاحب فرماتے ہیں د کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ا یکدفعہ گردن اونچی ہوگئی۔اس کشف کی حقیقت اور ظہور اس وقت ہونے والا تھا جب نواب صاحب حضرت صاحب کے پاس ہوں یعنی وہ ہجرت کر کے قادیان آ جاویں۔جب یہ کشف ہوا اس وقت تک نواب صاحب مالیر کوٹلہ میں تھے اور اس کے بعد بھی نو سال تک وہ قادیان مقیم ہونے کے لئے نہیں آئے تھے اور جب آپ قادیان ہجرت کر لی اور جوار مسیح موعود بلکہ الدار میں آپ کو جگہ مل گئی اسوقت آپ صاحب اولاد تھے اور آپ کی اہلیہ موجود تھیں۔پھر ان کا انتقال ہو گیا اور آپ نے دوسری شادی کی اور بالآخر وہ بھی وفات پاگئیں ہیں تب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو القا فر مایا اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ زید مجدھا کا آپ سے نکاح ہو گیا۔اور عملاً آپ کی گردن اونچی ہوگئی کیونکہ جماعت میں یہ مقام کسی کو حاصل نہ تھا۔اس کشف کی طرف دوستوں نے توجہ نہیں کی۔یہ کشف حضور کا اواخر دسمبر ۱۸۹۱ء کا ہے اس وقت تک سیدہ مبار کہ بیگم صاحبہ عالم وجود میں بھی نہیں آئی تھیں بلکہ صرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) عالم وجود میں آئے تھے۔اس وقت کوئی خیال نہ نواب صاحب کو ہوسکتا نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو نہ حالات اس قسم کے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ایک زمانہ دراز پیشتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت نواب محمد علی خان کے اقبال کی بشارت دی۔جرأت اور طلب حق حضرت نواب صاحب میں ایک فطرتی جوش طلب حق کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی جرات عطا فرمائی کہ جو امران کی سمجھ میں نہ آتا تھا اس کے متعلق سوال کرنے سے کبھی مضائقہ نہ کرتے تھے۔چنانچہ جب عبد الحق عزنوی نے مباہلہ کا اشتہار دیا تو آپ کو بعض سوالات حضرت اقدس کے جواب پر پیدا ہوئے اور آپ نے بلا خوف لومۃ لائم حضرت کی خدمت میں عریضہ لکھا۔حضرت اقدس نے اسے نا پسند نہ فرمایا بلکہ بہت خوش ہوئے۔چنانچہ اس کے جواب میں تحریر فرمایا: جیسا کہ گذشتہ اوراق میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت نواب صاحب کی پہلی اہلیہ ۹۸ء میں وفات پاگئی تھیں اور حضور کے مکتوب میں اس کا ذکر ہے۔وہ کبھی قادیان نہیں آئیں بلکہ ۱۹۰۱ء میں دوسری اہلیہ آئیں جنہوں نے قادیان میں وفات پائی۔معلوم ہوتا ہے سہوا پہلی اہلیہ کی آمد کا ذکر ہوا ہے۔(مؤلف)