اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 17 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 17

17 اماموں کی سب أهـل لـغیر اللہ میں شامل ہیں۔پس ان کا ترک کیا۔یہاں تک کہ کورٹ کھلتے کھلتے دل تو بیزار ہو ہی چکا تھا کھلم کھلا بھی رسوم محرم بند کرنے کا قدم اُٹھا لیا گیا۔صرف محبت علی جو گھٹی میں پڑ گئی تھی اس کا نکالنا آسان کام نہ تھا۔اور طبیعت میں جھجک بھی پیدا ہوتی تھی کہ آخر یکدم مولا علی کا مرتبہ نسبتا کم کیسے کر دیں آخر تفضیلی شیعہ بنے رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر عمل اب ایک بھی شیعیت کا باقی نہ تھا اور شیعہ برادری اور خاندان میں ایک شور مخالف بر پا تھا۔ساتھ ہی عام رسوم کے ترک کا فیصلہ سنا دیا تھا۔اور رسوم میں شرکت چھوڑ دی تھی۔تو اس سبب سے بھی عام طور پر مخالفانہ جوش تھا۔بھائی بندا الگ خفا تھے اور نائی مراثی سنا گیا ہے کہ کھلم کھلا گالیاں دیا کرتے تھے کہ اس شخص نے ہمارا رزق ماردیا۔غرض کئی سال مخالفت کی فضاء میں زندگی گزارنا پڑی مگر طبعاً بہادر اور نڈر انسان کب کسی مخالفت سے ڈرنے والا تھا؟ ایسا سختی سے مقابلہ کیا کہ آخر سب خود ہی جھک گئے۔اب یہ حالت تھی کہ یہ کسی کے ہاں نہ جائیں کوئی شکوہ نہیں اور یہ عقیقہ وغیرہ پر بلائیں تو سب بھاگتے آتے ہیں۔وہ سخت بدلہ لینے والے پٹھان کسی نے نہیں دیکھا کہ کبھی کسی نے ان سے بھی بدلہ لیا ہو۔یہی کہتے کہ نواب محمد علی خان صاحب کا کیا ہے؟ ان سے گلہ کیا ؟ وہ تو شریعت پر چلتے ہیں۔سرے سے رسمیں ہی نہیں کرتے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ مالیر کوٹلہ کے خاندان میں اگر کسی نے برادری کے جھگڑوں سے تنگ آکر کبھی رسوم چھوڑیں تو یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ شریعت پر چلنے لگا بلکہ یہ کہ محمد علی خاں کے طریق پر چل پڑا ہے“۔یا جب کوئی قصہ جھگڑا ہوتا تو تنگ آکر اکثر کہتے سنا گیا کہ وہی محمد علی خاں سچا تھا۔اُس نے بہت ہی اچھا کیا کہ رسمیں ترک کر دیں۔ہم تو عذاب میں پھنسے ہیں وغیرہ۔جس کو بلا نا منظور ہوتا اور نواب صاحب کی شرکت کی خواہش ہوتی سب رسوم ترک کر کے ان کے زیر ہدایت تقریب کرتا اور بلا تا۔خود اُن کے بھانجے والٹی ریاست نواب احمد علی خاں نے دو تین بچوں کی شادیاں شاید قادیان سے بھی کچھ زیادہ ہی سادگی سے کیں اور ہمنت حضرت نواب صاحب کو اور ان کے اہل بیت کو شمولیت کے لئے لے کر گئے۔(ن) سرسید کی خدمات کا اعتراف نواب محمد علی خاں صاحب کی تعلیم ایچیسن کالج لاہور میں ہوئی تھی۔اور ان کے اساتذہ میں مولانا حالی مرحوم بھی تھے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی عام تعلیمی اور معاشرتی بدحالی کا ذکر اور اس خصوص میں سرسید کی خدمات کا عام چرچا تھا۔نواب صاحب کے دل میں اسلامی ہمدردی اور مسلمانوں کی فلاح کے لئے ایک خاص جوش تھا اور ایچیسن کالج میں بعض اصلاحی امور میں وہ پیشروا در لیڈر ہوتے تھے۔چنانچہ محمڈن ایجوکیشنل