اصحاب احمد (جلد 2) — Page 568
568 کا تذکرہ فرمایا۔کہ بہشت میں انسان ہمیشہ رہے گا اور اس میں ترقی برابر کرتا رہے گا اور اسی طرح دوزخ میں ترقی ہوگی اور دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا کیونکہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ بہشت میں ہمیشہ رہیں گے ۴۰۷ بقیہ حاشیہ: - توکل کے مفہوم کے منافی ہے۔ظاہری اسباب کی رعایت ضروری امر ہے۔اس کے جواب میں مختلف لطیف امور بیان کرتے ہوئے حضور ٹیکہ سے رکنے کی وجہ الہام الہی قرار دیتے ہیں۔اس عبارت کا ایک حصہ یہ ہے۔واني بُشْرتُ في هذا الايام من ربّى الوهاب فأمنت بوعده ورضيت بترک الاسباب۔وما كان لي ان اعصى ربّى اواشک فیما اوحى۔ولا أبالى قول الاعداء فان الارض لا تفعل شيئا الأما فعل في السماء۔وانّ معى ربّى فما كان لي ان افكر فكرا وانه بشرني وقال لا أبقى لك فى المخزيات ذكرا۔وقال يعصمك الله من عنده وهو الولی الرحمن۔وان يغرحسن الى سواد فيترائ الحُسنان۔هذا ربنا المستعان فكيف تحاف بعده اهل العدوان۔فلا تعيرني على ترك التطعيم وانّ ربّى بكل خلق عليم ترجمہ: اور مجھے ان ایام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ملی۔پس میں اس کے وعدہ پر ایمان لایا اور ترک اسباب پر راضی ہوا اور میرے لئے کیونکر مناسب ہے کہ اپنے رب کی نافرمانی کروں یا اس کی وحی میں شک کروں۔اور میں دشمنوں کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ زمین کچھ نہیں کرسکتی مگر وہی جو آسمان پر قرار پاتا ہے۔اور میرے ساتھ میرا رب ہے اس لئے میرے لئے مناسب نہیں کہ کچھ فکر کروں اور اس نے مجھے بشارت دی اور فرمایا لا ابقی لک فی المخزيات ذكرًا اور فرمایا یعصمك الله من عنده وهو الولی الرحمن۔اور اگر ایک حسن سیا ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس کی بجائے دوحسن ظاہر ہوں گے۔یہی ہمارا رب ہے کہ جس سے ہم استعانت کرتے ہیں پس اس کے بعد ہم دشمنوں سے کس طرح خائف ہو سکتے ہیں؟ سوٹیکہ لگوانے کو ترک کرنے پر مجھے سرزنش نہ کرو کیونکہ میرا رب ہر ایک پیدائش کو جانتا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ کشتی نوح کی تصنیف میں جو حضور نے ٹیکہ لگوانے سے جماعت کو منع کیا اس کی وجہ الہامات لا أبقى لک فی المخزيات ذكرًا اور فرمایا یعصمك الله من عنده وهو الولی الرحمن تھے اور انى بشرت في هذا الايام سے ایام تصنیف مواہب الرحمن یا قرب تصنیف مواہب الرحمن مراد نہیں بلکہ شدت طاعون کے ایام مراد ہیں جیسا کہ منقولہ عبارت کا آخری حصہ اور اس سے قبل کی عبارت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔