اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 524 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 524

524 ۱۰ر جنوری ۱۸۹۸ء بروز سوموار نماز صبح میں شریک جماعت ہوا۔نہایت حفظ نماز میں آیا۔نصف سیپارہ قرآن شریف پڑھا۔کوئی دس بجے کے بعد حضرت اقدس مرزا صاحب (کے) ہمراہ سیر کو گیا۔حضور نے بہت سی عمدہ تقاریر اثنائے سیر میں کیں۔کوئی ساڑھے گیارہ بجے واپس آئے۔نماز ظہر میں شریک ہوا۔نماز عشاء میں شریک ہوا۔نماز عصر کے بعد مولانا مولوی نورالدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب * اور مولوی عبدالکریم صاحب تشریف لائے۔قریب نماز مغرب تک تشریف رکھتے رہے۔ضمیمه ، ارجنوری ۱۸۹۸ء ۳۸۲ حضرت مولانا نورالدین صاحب نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر کسی انسان میں بدی ہوتی ہے تو اس میں نیکی بھی ہوتی ہے تو اس طرح اگر اس کی بدی باعث خرابی ہوتی ہے تو نیکی اس کی سفارش ہوتی ہے اس طرح انسان عذاب سے بچ جاتا ہے چنانچہ وَاَحَاطَتْ بِهِ خَطيئته ل کے معنی میں یہی سمجھتا ہوں کہ احاطہ کے معنی ہیں کہ خطایا ( نے ) اس طرح گھیر لیا ہو کہ کوئی راستہ باقی نہ رہا ہو تو عذاب آتا ہے اور اگر ذرا راستہ موجود ہو تو پھر آدمی بیچ رہتا ہے۔جب تک احاطہ نہ ہو جائے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ خاص اعضاء کے گناہوں میں اگر احاطہ ہو جائے تو وہ عضو معطل ہو جاتا ہے۔اور خطبہ میں فرمایا کہ انبیاء کے ساتھ کہیں جناح یا جرم نہیں آیا۔کیونکہ جناح کے معنی گناہ ہیں اور جرم کے معنی کاٹنے والے کے ہیں اور ذنب کے معنی دم کے ہیں یعنی وہ گناہ جو عارضی طور سے بطور طفیلی کے صادر ہو۔پس ذنب کے معنی گناہ کر نے ٹھیک نہیں۔چونکہ اردو زبان کمزور ہے اس لئے کئی الفاظ کے سبب ان تینوں لفظوں کے ایک معنی کرنے پڑتے ہیں ورنہ دراصل یہ بات نہیں۔۱۱/جنوری ۱۸۹۸ء منگل نماز صبح میں شریک جماعت ہوا۔بعد نماز چونکہ حضرت اقدس تشریف رکھتے تھے میں بھی وہیں بیٹھ رہا۔حضور نے اول چند خوابوں کا تذکرہ کیا پھر اپنی جماعت کو خطاب کیا اور چند ہدایات فرمائیں۔پھر اس کے حمد مراد حکیم مولوی قطب الدین صاحب بدوملہی۔آپ کا نام فہرستہائے آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ انجام آتھم میں علی الترتیب چھبیسویں اور چھٹے نمبر پر درج ہے۔۴۷ء میں مجبوراً قادیان سے ہجرت کر کے راولپنڈی چلے گئے تھے اور اب وفات پاچکے ہیں۔