اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 522 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 522

522 * بجے بذریعہ ریل روانہ ہو کر ایک بجے امرتسر پہنچے اور ہوٹل میں ٹھہرے) ۹ /جنوری ۱۸۹۸ء بروز اتوار امرتسر میں اسٹیشن پر میاں عبد الکریم صاحب عطار اور ہمشیر مولوی نورالدین صاحب و یعقوب علی (صاحب) ایڈیٹر اخبار الحکم ملے اور ایک اور صاحب بھی۔یہ سب حضور مرزا صاحب کے مبائعین میں سے تھے گیارہ بجے بٹالہ پہنچے وہاں پر Rest House میں دو گھنٹہ ٹھہرے گو کہ مرزا صاحب نے پہلی بھیج دی تھی مگر میاں عبدالکریم صاحب (نے) کوشش کر (کے ) ایک گھوڑی بہم پہنچائی۔اس لئے میں گھوڑے پر سوار ہوا۔اور صفدر علی اور منصب علی ** اور میاں عبدالکریم یکہ پر اور اللہ بخش اور نور محمد معہ اسباب پہلی میں روانہ مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔”میاں عبد الکریم عطار سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور قادیان میں بابا عبدالکریم کے نام سے عمر کے آخر میں مشہور تھے۔وہ صحابی تھے۔بہت خوش گلو تھے۔حضرت اقدس کے حضور ان کو بعض نظمیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔کبھی کبھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ارشاد پر اذان بھی کہہ دیا کرتے تھے۔تجارت کا شوق تھا۔بریکار نہ رہتے اور اس فن کو خوب سمجھتے تھے بہت خوش اخلاق اور خندہ پیشانی کے مالک تھے۔رضی اللہ عنہ۔“ ان کے قادیان آنے کا ذکر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے تفسیر کبیر جلد ششم جز چہارم حصہ سوم میں سورۃ القریش کی تفسیر میں صفحہ ۲۴۲ پر کیا ہے۔مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ہمشیرہ حضرت خلیفتہ اسیح اول رضی اللہ عنہ اس وقت قادیان میں آئی تھی اور اس کے آنے کا مقصد مشورہ کرنا تھا کہ روپیہ ہو گیا ہے کوئی مقدمہ کرنا چاہتی ہوں۔حضرت حکیم الامۃ یہ لطیفہ درس میں بھی سناتے تھے اور وہ خلیفہ اول کو محبت اور پیار سے نور دینا کہ کر پکارتی تھی۔حضرت خلیفہ اول کی طرح در از قد اور مضبوط 66 جسم کی خاتون تھیں۔“ ** صفدر علی صاحب کے لئے دیکھئے ڈائری بابت ۹۸-۰۱-۲۶۔ان کا ذکر ۰-۱۱-۱۳ کی ڈائری میں بھی ہے مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔منصب علی صاحب حضرت نواب صاحب کے اہلکار پیشی تھے۔بہت خوش خط ، معاملہ فہم اور وجیہہ نو جوان