اصحاب احمد (جلد 2) — Page 518
518 دل میں کن باتوں کو اہمیت حاصل ہے۔ڈائریوں کے جن حصوں کا ذکر اوپر آیا ہے ان میں سے بعض درج ذیل ہیں۔نواب صاحب ۹ جنوری ۱۹۸ء کو قادیان آئے۔۱۰ جنوری کی ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں: نماز صبح میں شریک جماعت ہوا۔نہایت حظ نماز میں آیا۔“ ۲۲ کی ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں : ”اس کے بعد نماز کسوف کے لئے جامع مسجد گئے۔پہلے نماز ظہر اور عصر ملا کر پڑھی گئیں پھر نماز کسوف ہوئی اور جس درد اور آہ وزاری کے ساتھ یہ نماز پڑھی گئی وہ ایک عجیب تھی اور پھر قریب اختتام کسوف نماز شکر یہ پڑھی گئی۔آج قریبا تمام دن عبادت میں گزرا۔مخالفوں کو یہاں آکر دیکھنا چاہئے کہ آیا ان کی مخالفت چاہئے یا نہیں۔‘“ اسی طرح تحریر فرماتے ہیں: ار جنوری ۱۹۰۲ء۳۰ رمضان المبارک آج رمضان کا آخری روز ہے الحمد للہ کہ تمام روزے میرے پورے ہوئے خداوند تعالیٰ میرے ان ناقص روزوں کو قبول فرمائے۔آج ایک۔۔۔۔افسوس مجھ کو ہوا کہ نماز عصر میری جاتی رہی۔اس سے قطعاً ذہول ہو گیا۔ذرا یاد نہ رہا اور زیادہ اثر اور افسوس اس وقت ہوا جب حضرت اقدس نے تقریر فرمائی کہ ” جب دن ختم ہونے پر آیا تو میں کام چھوڑ کر دعا میں مشغول ہو گیا اور میں نے جن کے نام یاد تھے ان کے نام لے کر اور باقی کو بلا نام تمام کو دعا میں یاد کیا۔جب میں کر چکا تھا کہ مجھ کو معلوم ہوا جس طرح کوئی شخص مرجاتا ہے تو گویا میں نے سمجھا رمضان اب ختم ہو گیا اتنے میں اللہ اکبر کی آواز آئی لیکن ہم دعا کر چکے تھے۔ہماری دانست میں یہ بہت مبارک مہینہ تھا گویا اس کی برکات ختم ہو گئیں۔اس وقت مجھ کو بڑی رقت طاری ہوئی کہ ایک ہم بد نصیب ہیں کہ دعا تو دعا نماز عصر بھی غائب کی۔مجھ کو مغرب سے عشاء تا نہایت رفت رہی اس لئے اس تقریر کے وقت بھی رقت طاری تھی۔حضرت (نے) بڑی عمدہ تقریر فرمائی فرمایا ان مہینوں میں