اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 494 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 494

494 اسٹنٹ فنانشل سیکریٹری اور پھر فانتشل سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح اول کے ارشاد کے ماتحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نواب صاحب، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے زیر عنوان ” حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد گار اعلان شائع کر کے دینی مدرسہ کے قیام کی اہمیت بیان کر کے اس کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی۔ج - ۱۹۰۹ ء میں آپ صد را انجمن احمدیہ کے امین مقرر ہوئے۔د ۱۹۱۱ء میں آپ صدرانجمن کی طرف سے ناظر مقرر ہوئے۔ان ایام میں ناظر کے سپر دوہ کام تھا جو آج -0 کل آڈیٹر کے ذمہ ہے۔حضرت خلیفہ امسیح اول کے مشورہ اور ارشاد سے فیصلہ ہوا کہ کوٹھی نواب صاحب کے سامنے مسجد نور کے متصل مدرسہ تعلیم الاسلام تعمیر کیا جائے۔جن گیارہ احباب کی موجودگی میں حضور نے یہ فیصلہ فرمایا تھا۔ان میں نواب صاحب بھی شامل تھے۔- حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۲ار اپریل ۱۹۱۴ء کو نمائندگان جماعت کے سامنے قادیان میں کالج کے قیام کی اہمیت بیان فرمائی۔19 اپریل کو نواب صاحب نے اعلان کیا کہ حضور نے سولہ ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی کا تقرر فرمایا ہے۔جو اس امر پر غور کرے کہ کس طرح کالج جلد سے جلد اور کم خرچ پر قائم کیا جاسکتا ہے۔نواب صاحب بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان ایام میں مالی مشکلات کی وجہ سے -2 ۳۶۳ ۳۶۴ کالج کا قیام نہ ہوسکا۔ز غالباً ۱۹۱۵ ء اور ۱۹۱۶ء میں دو سال تک نواب صاحب صدرانجمن احمدیہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدہ پر ☆ فائز رہے۔ح - ۱۹۱۶ء میں جبکہ صدرانجمن کی مالی حالت اچھی نہ تھی فوری توجہ کے قابل عنوان کے تحت اعلان کیا گیا جنرل سیکرٹری کے سپر د ناظر اعلیٰ والا کام ہوتا تھا۔البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ میر مجلس جنرل سیکرٹری کے علاوہ کوئی اور ہوتا تھا لیکن ناظر اعلیٰ خود صدر مجلس بھی ہوتا ہے۔۶ ارنومبر ۴۷ ء سے ابتداء مارچ ۴۸ ء تک صدرانجمن قادیان میں یہ استثناء رہا کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ناظر اعلیٰ مکرم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب کو مقرر فرمایا۔لیکن صدر مجلس مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ فاضل امیر مقامی کو۔مکرم صاحبزادہ صاحب کے مارچ ۲۸ ء میں چلے جانے کے بعد پھر پہلا طریق جاری ہوا۔