اصحاب احمد (جلد 2) — Page 489
489 تو پیدل ہی چل پڑا۔اس تعلق کی بناء پر نواب صاحب کی باہر سے آمد پر حضرت خلیفہ اول ان کے ہاں ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کو گئے۔جہاں سے واپسی پر حضور گھوڑے سے گر پڑے۔چنانچہ مرقوم ہے۔۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کو بعد نماز جمعہ حضرت خلیفتہ اسیخ گھوڑے پر سوار ہو کر نواب صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔نواب صاحب ۱۷ نومبر کو قادیان آئے تھے۔اس لئے حضرت از راہ محبت و شفقت جو آپ کو اپنے خدام سے ہے ان کو ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔علاوہ بریں چونکہ حضرت مسیح موعود مغفور کی صاحبزادی نواب صاحب کے گھر میں ہے۔حضرت خلیفہ امسیح کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ بنت مسیح موعود کا جائز احترام مدنظر رکھتے ہیں۔اور اس سے اُس محبت کا پتہ لگتا ہے۔جو آپ کو اہل بیت حضرت خلیفتہ اللہ المہدی سے ہے۔واپسی پر گھوڑی ایک تنگ کو چہ سے داخل ہو کر گزری اور حضرت زمین پر آر ہے۔اور پیشانی پر سخت چوٹ آئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح حضرت مولوی صاحب بھی نواب صاحب کی تربیت میں کوشاں رہتے تھے۔چنانچہ ذیل کا مکتوب آپ کی سعی تربیت اور قلبی تعلق پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔حضرت مولوی صاحب نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میرا عریضہ توجہ سے پڑھیں۔اور ایک آیت ہے قرآن کریم میں اس پر آپ پوری غور فرما دیں۔ومَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًاةٌ ويَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ به نابکار خاکسار۔راقم الحروف متقی بھی نہیں ۳۵۹ ہاں متقی لوگوں کا محبت ہے اور پورا محب۔مجھے بھی بمقام مالیر کوٹلہ بڑی بڑی ضرورتیں پیش آتی رہیں اور قریب قریب اڑ ہائی ہزار کے خرچ ہوا۔مگر کیا آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا شاید دوتین سوسے کچھ زائد کا آپ کو پتہ نہ ہوگا۔مگر باقی کا علم سوائے میرے مولیٰ کریم کے کسی کو بھی نہیں۔حتی کہ میری بی بی کو بھی نہیں۔الحکم جلد ۱۴ نمبر ۴۰ صفحه ۱۷۔پر چه ۲۸ نومبر ۱۹۱۰ء۔بدر جلد نمبر اصفحہ ۲۔پر چہ ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ء میں اس کا مختصر ذکر موجود ہے۔(مؤلف)