اصحاب احمد (جلد 2) — Page 469
469 کریں۔ہمیں اس وقت تک ہندوستان میں کام کرنا ہے جب تمام ہندوستان میں متحدہ طور پر یہ آواز بلند ہو۔1۔۔۔۔۔۔غلام احمد کی جے ۳۳۹ اور یہ ہو نہیں سکتا کہ جب تک ہندو اقوام بحیثیت جماعت کے اسلام میں نہ داخل ہوں۔اگر ہم ساری دنیا کو بھی مسلمان بنا لیتے اور اس طرف توجہ نہ کرتے تو ہمارا فرض ادا نہ ہوتا۔پس وقت ہے کہ جو لوگ جس قدر قربانی کر سکتے ہیں کریں اور تیار رہیں کہ ابھی ان کو اور بھی خدمت اور قربانی کے موقعہ ملیں گے۔اسلام پر یہ نازک وقت ہے یہ ہنسی کا وقت نہیں۔اسلام پر دشمن کا حملہ ہے اگر اس کو پورے طور پر سمجھ لیا جائے تو کوئی قربانی اس کے انسداد کے لئے مسلمان اٹھا نہ رکھیں۔“ بعد ازاں حضور نے چندہ کا اعلان فرمایا اور سب سے پہلے حضرت نواب صاحب کے بردار نسبتی اور ماموں زاد بھائی جنرل اوصاف علی خاں صاحب کے پانصد روپیہ کے چیک کا حضور نے اعلان فرمایا۔دس ہزار کے وعدے لکھے گئے۔جن میں حضرت نواب صاحب کا سب سے زیادہ تھا یعنی ایک ہزار روپیہ۔علاوہ ازیں دوصد رو پیه سیده نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا اور پانصد مکرم نواب میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کا اور ایک صد روپیہ بوزینب بیگم صاحبہ کا۔اس کے علاوہ تبلیغ کے تعلق میں ذکر ہو چکا ہے کہ بعد ازاں نواب صاحب نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل میں علاقہ ملکانہ کا دورہ کیا اور اپنے اور اپنے رفقاء کے کئی ہزار روپے کے اخراجات خود برداشت کئے۔۱۷- تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں شمولیت احرار نے سلسلہ کے خلاف جو طوفان بے تمیزی برپا کیا اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے جماعت کے لئے قربانیوں کے وسیع مواقع بہم پہنچائے جن سے اسلام واحمد بیت شاندار طور پر ترقی کریں اور چار دانگ عالم میں شد و مد سے ان کی اشاعت ہو۔باوجود گونا گوں مالی تفکرات کے حضرت نواب صاحب نے پہلے دس سالوں میں قریباً ساڑھے تین ہزار روپیہ ادا کیا۔آپ کے اہل وعیال کا چندہ اس کے علاوہ تھا۔مکرم چوہدری برکت علی خاں صاحب وکیل المال تحریک جدید ر بوه تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت نواب صاحب مجسم قربانی تھے۔وہ جہاں تک میں جانتا ہوں ہر قربانی میں شاندار حصہ لیتے تھے اور سید نا حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہر ارشاد پر بہ انشراح صدر لبیک لبیک یا امیر المؤمنین کہنے والے تھے۔تحریک جدید کی قربانیوں کا جب ۲۳ / نومبر ۱۹۳۴ء کے دن جمعہ کے خطبہ میں حضور نے مطالبہ فرمایا تو