اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 468 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 468

468 وو الفضل“ کے ذریعہ چلائی حصہ دار ہیں اور سابقون الاولون میں سے ہونے کے سبب سے اس امر کے اہل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اس قسم کے کام لے۔اللہ تعالیٰ ان کو ہر قسم کے مصائب سے محفوظ و مامون رکھ کر اپنے فضل کے دروازے ان کے لئے کھولے۔“ علاوہ ازیں مزید اعانت کے متعلق الفضل میں مرقوم ہے۔دم الفضل کو دفتر کے لئے نواب صاحب نے اپنے مکان کے نیچے کی منزل دی ہے جو بہت عمدہ فیشنیل (Fashionable) مکان ہے۔“ ۱۶- فتنہ ملکانہ کے موقعہ پر ایک ہزار روپیہ دینا فتنہ ارتداد ملکانہ کا معاملہ جماعت احمدیہ میں شائع و متعارف ہے۔۱۹۲۳ء میں اس بارہ میں خاص طور پر شوری میں غور کیا گیا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں سب کمیٹی کا تقرر ہوا جس کے ایک ممبر چوہدری ( سر ) محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی تھے۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے شوری کا یہ مشورہ قبول فرمایا کہ اس امر کے لئے کم سے کم سور و پیہ چندہ کی تعیین کی جائے لیکن جو چاہے دے۔حضور نے پچاس ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی۔تعیین کے بعد حضور نے فرمایا کہ ہجرت نبوی جلدی اسلام کے پھیلنے کا ذریعہ بنی اور خلفاء کے زمانہ میں بیرونی حکومتیں عرب میں سے اسلام کی ہستی مٹانا چاہتی تھیں ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کو مجبور انکلنا پڑا اور اس طرح ملک کے ملک ان کے ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تدبیر تھی تا کہ مسلمان دنیا کو فتح کریں۔اور فرمایا کہ غیر مسلموں نے ہزاروں ملکانوں کو مرتد کرلیا ہے یہ ایسے خطرناک اور روح فرسا حالات ہیں کہ ان سے روح کا نپتی ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ نعمتیں مشکلات کے بعد ہی ملا کرتی ہیں۔گلاب کا پھول ملتا ہے مگر ہاتھ میں جب کانٹا چبھ چکے۔جب یہ ادنی چیزیں بھی مشکلات کے بعد ملتی ہیں تو خدا کس طرح آرام سے مل سکتا ہے۔پس جو خدا سے ملنا چاہتا ہے اس کو کانٹوں کی نہیں تلواروں کے زخموں کی برداشت پیدا کرنی چاہئے۔جو خدا کو چاہتا ہے وہ تلوار کے گھاؤ کھانے کے لئے تیار ہو وہ جان دینے کے لئے تیار ہو۔وہ جنہوں نے پچاس ہزار دینا ہے ممکن ہے کہ وقت آنے پر ان کو وہ سب کچھ دینا پڑے جو ان کے پاس ہو۔۔۔اب امتحان کا وقت ہے۔ہمارے سامنے صرف ملکانوں کا سوال نہیں سارے ہندوستان کو مسلمان بنا لینے کا سوال ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے اے کرشن گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔گیتا میں آپ کا ذکر اس لئے تھا کہ آپ کے ذریعہ ہندوؤں میں تبلیغ اسلام ہو۔یہ خدا نے تین ہزار سال پہلے ہمارا فرض ٹھہرا دیا ہے کہ ہم ہندوؤں میں تبلیغ اسلام