اصحاب احمد (جلد 2) — Page 1
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُه وَنُصَّلِى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُود حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ خاندانی حالات حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہمارا خاندان غوری ہے۔شاہ حسین جو شاہ محمد غوری کا بھتیجا تھا۔بعد زوال خاندان غور کابل آ گیا۔اس کے دو بیٹے جو شاہ کابل کی بیٹی سے تھے ان کا نام غلزی اور (الف) خاکسار مولف نے حضرت نواب صاحب کی حیات کی تدوین کیلئے مواد کی فراہمی کا کام آپ کی وفات کے معا بعد شروع کر دیا تھا۔وفات پر آپ کے صاحبزادہ مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب قادیان تشریف لائے تو خاکسار نے اس موقعہ سے فائدہ اُٹھایا۔قریب کے عرصہ میں آپ شملہ گئے تو وہاں میری درخواست پر اخویم مرزا محمد حیات صاحب تاثیر فاضل (حال چنیوٹ) نے مکرم میاں محمد عبداللہ خاں صاحب کی زبانی میرے نوشتہ حالات سُنائے اور بہت سی مزید معلومات حاصل کیں۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے مجھے زبانی استفسار کر کے آپ کے جوابات آپکو دوبارہ سُنانے کا موقعہ ملا۔حضرت ممدوحہ نے دونوں میاں صاحبان کے بیانات اور اپنے لکھوائے ہوئے حالات بھی بالاستیعاب پڑھے اور ان میں بہت سا مفید اضافہ کیا۔اور تقسیم ملک کے بعد خاکسار کے استفسارات پر سیدہ موصوفہ نے ہر طرح معاونت فرمائی۔تالیف کے دوران میں باعث فراہمی حالات مجھے مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب کے پاس دو دفعہ مالیر کوٹلہ بھی جانا پڑا۔(ب) نواب صاحب کی روایات جو نظارت تالیف و تصنیف کے ریکارڈ میں ہیں ان کا اکثر حصہ الفضل جلد ۲۶ نمبر ۱۳۳ پر پرچه ۱۴ جون ۱۹۳۸ء میں چھپ چکا ہے۔