اصحاب احمد (جلد 2) — Page 444
444 کھجوریں بھی اسلام کے استحکام کے لئے پیش کیں ان کا وزن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بعد میں شاہان اسلام کی طرف سے پیش ہونے والے زروجواہر سے معمور خزانوں سے کہیں زیادہ ہے۔اسلام کی خوش حالی اور ترقی کے بعد اس پر پھر غربت کا زمانہ آنے والا تھا۔جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدا الاسلام غريبا وسيعود غريبا - میں خبر دی تھی۔سوایسے ہی حالات میں حضرت نواب صاحب نے انفاق سبیل اللہ کے طور پر جو بہترین خدمات سرانجام دیں وہ ہمارے لئے ایک زندہ رہنے والا اور قابل تقلید اسوۂ حسنہ ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے تعریف ان مالی قربانیوں میں جو روح کام کرتی تھی اس کا علم حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ذیل کے مکتوب سے ہوتا ہے تحریر فرماتے ہیں۔قادیان ۳۱ / مارچ جناب خاں صاحب مکرم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔پانسو روپے جناب کا عطیہ آج پہنچ گیا جَزَاكُمُ اللهُ أَحْسَنُ الجزاء وفَرَّجَ عَنكُمُ الهموم وَالْعَمُوم اگر آپ ان صادقوں سے نہ ہوتے جن کی طرف سے خدائے علیم صفات فرماتا ہے۔لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَّلَا شُكُورًا تو میں اپنی طرف سے اور کمیٹی کی طرف سے آپ کا متعارف شکر یہ ادا کرتا اور اصل بات یہ ہے کہ خدا ہی آپ کی جزا ہو۔تازہ الہام سن لیجئے كُلَّ الْعَقْلِ فِى لبس النظيف واكل اللطیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بہت تفسیر فرمائی خلاصہ یہ ہے کہ اکل حلال اور لباس نظیف نشان ہے انسان کی دانش کا۔والسلام عاجز عبدالکریم ( مکتوب غیر مطبوعہ ) اس مکتوب میں مندرجہ الہام غیر مطبوعہ ہے۔یہ مکتوب ۳۱ مارچ ۱۹۰۰ء کا معلوم ہوتا ہے۔جیسا کہ مدرسہ کے تعلق میں بالوضاحت لکھا گیا ہے نواب صاحب نے ایک ہزار روپیہ سالانہ مدرسہ کے لئے دینا منظور کیا اور کمیٹی مدرسہ نے آپ کو ڈائرکٹر مدرسہ بنادیا۔یہ فیصلہ ۵ ستمبر ۱۹۰۰ء کو ہوا اور دسمبر ۱۹۰۱ء کو نواب صاحب ہجرت کر کے قادیان چلے آئے اور یہ خط قادیان سے لکھا گیا اور نواب صاحب قادیان میں نہ تھے۔یہ مکتوب آپ کے ڈائریکٹر بننے سے پہلے لکھا گیا تھا ورنہ ڈائر کٹر ہوتے ہوئے کمیٹی کی طرف سے آپ کے چندہ پر شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہ تھی اور مکتوب کی عبارت بھی ظاہر کرتی ہے کہ آپ اس وقت تک مدرسہ کے عہدہ دارنہ