اصحاب احمد (جلد 2) — Page 440
440 شاید یہی کمشنر تھا یا کوئی اور جس کے متعلق مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ لاہور میں مسٹر اینڈرسن کمشنر تھے۔نواب صاحب جب اپنے حقوق متعلقہ ریاست کے متعلق اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر کارروائی کر رہے تھے تو اس عرصہ میں ان کو اینڈرسن سے بھی ملاقات کا موقعہ ملا اینڈرسن کو ہمارے مخالفوں نے سلسلہ کے متعلق مسموم کیا ہوا تھا۔ایک مرتبہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے بھی اس کی گفتگو ہوئی تھی۔ایک کشمیری پنڈت نے جو تحصیلدار تھا اینڈرسن سے سلسلہ کی مخالفت میں افترا آمیز بیان کیا تا کہ حکومت بدظن ہو۔اتفاق سے اسی وقت مرز اسلطان احمد صاحب بھی وہاں اس سے ملنے گئے اور وہ ان کے کام سے بہت خوش تھا۔ان کو اندر بلالیا گیا اور اس کشمیری پنڈت نے بلا تکلف کہہ دیا کہ مرزا صاحب سے بھی پوچھ لیجئے یہ بھی ان کے مخالف ہیں۔اینڈرسن نے مرزا صاحب سے کہا کہ یہ ایسا بیان کرتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے؟ مرزا صاحب نے اس غیرت و جرات کی بناء پر جو اس خاندان کے خون میں چلی آتی ہے۔نہایت سختی سے کہا کہ اگر یہ آپ کے پاس نہ ہوتا تو میں اس کو بتادیتا کہ اس قسم کی بیہودگی کی سزا کیا ہے۔یہ ایسا بے غیرت ہے کہ میرے والد بزرگوار کی برائی کرتا اور مجھ سے تصدیق چاہتا ہے۔اس جیسا نا خلف بیٹا ہی باپ کی برائی سن سکتا ہے آپ حاکم ہیں مگر افسوس ہے کہ اس شخص کی بکواس کی مجھ سے تصدیق چاہتے ہیں آپ کو یہ مناسب نہیں تھا۔اینڈرسن نے معذرت کی۔اسی اینڈرسن سے ایک مرتبہ نواب صاحب ملے تو اس نے سلسلہ کے متعلق بھی ذکر کیا۔نواب صاحب نے ایک لمبی تقریر میں سلسلہ کی خوبیاں اور اس کے سیاسی مسلک کو واضح کیا اس کے بعد اینڈرسن صاف ہو گیا تھا۔“ یہ فریضہ حضرت نواب صاحب کم از کم ۱۹۱۷ء تک اپنے رنگ میں ادا کرتے رہے۔چنانچہ آپ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام مکرم معظم سلمکم اللہ تعالی۔میں شنبہ گزشتہ چیف سیکرٹری صاحب گورنمنٹ پنجاب سے ملا تھا اور اپنے کوٹلہ کے معاملات کے متعلق یہ ملاقات تھی۔بھائی صاحب ذوالفقار علی خاں صاحب بھی تھے۔یوں ہی سی رواروی۔قادیان کے متعلق بھی بات ہوتی رہی۔اٹھتے ہوئے میں نے ان سے پھر ملاقات محض سلسلہ کے متعلق امور کے لئے کہا تو انہوں نے کہا کہ جمعہ اور پیر کے سوا جس دن چاہو آ جاؤ ، حضور نے مجھ کو چلتے وقت کہا تھا کہ اس بات کی تحریک کی جائے کہ ہماری ڈبل کمپنی یا جدا گانہ پلٹن گورنمنٹ منظور کرے اس میں شک نہیں کہ سول افسران سے ان کا تعلق کم ہے مگر اسی طرح سیڑھی به سیڑھی چلنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اس میں کم از کم یہ فائدہ ہے کہ سول آفیسر یہ تو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فوجی خدمات کو تیار ہیں۔بہر حال چیف سیکرٹری صاحب سے تو وقت مقرر ہو گیا۔نواب لیفٹنٹ گورنر صاحب سے بھی عنقریب