اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 408 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 408

408 ہی چھٹتا ہے جب یکدم اس کو قطعی چھوڑ دے اگر ایک تمہا کو خور ذرا بھی پھر منہ کولگالے تو وہ پھر چسکا پڑ کر ضروری ہے کہ دوبارہ اس عادت کو اختیار کر لے گا۔کسی شادی پر عزیزوں کو کچھ نہ دیتے تھے نہ لیتے تھے مگر وہی بھتیجیاں بھانجیاں جب ملنے آتیں یا خود باہر سے آتے تو ضرور ہی ان کو تحفہ یا روپیہ دیتے۔اپنی سوتیلی بہنوں کو بھی برابر ان کی زندگی بھر جیب خرچ دیا اور اس کے علاوہ بھی جب بھی وہ آتیں روپیہ دیتے یا بھیج دیتے اسی طرح سوتیلی بھتیجیوں کو بھی۔بعض لوگ کہتے کہ نواب صاحب خود تحفے تحائف دے دیتے ہیں مگر لیتے نہیں۔بو فاطمہ بیگم مرحومہ کو چونکہ نواب صاحب سے شدید محبت تھی اس لئے انہیں خصوصیت حاصل تھی ورنہ اوروں کے متعلق سگے سوتیلے کا فرق میں نے ان میں نہیں دیکھا۔میاں احسان علی خاں سوتیلے بھتیجے ہیں مگر کبھی تو مجھے خیال ہوتا تھا کہ یہ شاید ان کو سب سے زیادہ عزیز ہیں۔“ آپ کے برادر نسبتی کرنل اوصاف علی خاں ابھی بچہ ہی تھے کہ یتیم ہو گئے۔اسی طرح کرنل صاحب کی ہمشیرگان بھی بالکل چھوٹی ہی تھیں۔کرنل صاحب کی جاگیر کا انتظام نواب صاحب نے نہایت اعلیٰ طور پر کیا اور ان کو بہترین تعلیم دلوائی اور ریاست نابھ میں اعلیٰ ملازمت دلوائی چنانچہ آپ وہاں کمانڈر انچیف رہے۔اسی تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے باعزت اور با حیثیت زندگی بسر کی اہلیہ اول کی وفات کے بعد نواب صاحب نے دوسری ہمیشرہ نسبتی سے شادی کر لی اور تیسری کا نکاح بھی اپنے زیر انتظام اچھی طرح کرایا۔(م) دنیا دار لوگوں کی طرح حسد اور بغض حضرت نواب صاحب کے دل میں نہ تھا اپنے چھوٹے بھائی کی ترقی پر جن کا گورنمنٹ میں کافی رسوخ تھا کبھی برانہیں منایا بلکہ ہمیشہ ان کی ترقی کے خواہاں رہے اور خوشی محسوس کرتے تھے بعض اقارب کو وظیفہ دے کر تعلیم دلوائی انہیں بہترین مشورہ دیتے اور ان کی ہمدردی کے باعث مرض الموت میں بھی سب کو تبلیغی خطوط لکھے۔(ع) مکرم میاں محمد عبداللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ چونکہ ریاست سنی تھی اس لئے ہمارے دا دا صاحب نے شیعہ ہونے کی وجہ سے شہر سے دو میل کے فاصلہ پر ایک نیا گاؤں آباد کیا جس کا نام شیروانی کوٹ رکھا یہاں سے محرم میں جلوس وغیرہ نکلتا تھا۔لیکن حضرت والد صاحب نے شیعیت کو چھوڑا پھر بھی جلوس وغیرہ اسی راستہ سے گزرتا تھا چونکہ ایسے مواقع پر آوارہ منش لوگ جمع ہوتے ہیں۔اور وہ ہماری دیواروں پر آکر بیٹھ جاتے پھر یہ کہ شہر کے جانور اس راستے سے گزرتے اور گرد اڑ کر آتی ان امور کو مدنظر رکھ کر ریاست سے زمین کا تبادلہ کر کے سڑک قریب دو سو گز پیچھے ہٹادی دوسرے بھائی جو شیعہ تھے وہ بھلا کب پسند کر سکتے تھے کہ وہ سڑک جس پر سے جلوس نکلا کرتا تھا۔اب نہ نکلے۔ریاست ہماری تائید میں تھی۔ریاست نے انہیں پرانی