اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 357 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 357

357 کس قدر غلط بیانی ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ بلا خلیفہ کیا دقت ہوتی ہے۔اس وقت چونکہ کوئی خلیفہ نہ تھا اس لئے کون تھا جو کسی کو روک سکتا تھا۔اور میاں صاحب کی جو شکایت کی جاتی ہے قبل از خلافت ان قیہ حاشیہ: سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوہ حسنہ قرار فرما چکے ہیں۔جیسا کہ آپ کے شعر چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر یک پر از نور یقیں بودے ۲۵۸ سے ظاہر ہے ، کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مهدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔“ جب حضرت مولوی نورالدین صاحب سے احباب نے درخواست کی کہ بیعت خلافت لیں تو آپ نے اس پر اپنی تقریر میں چھ اور احباب کے جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ ) حضرت نانا جان اور نواب صاحب کے نام بھی شامل تھے نام لئے اور فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ ان میں سے کسی کے یہ کام سپر د کیا جائے۔نواب صاحب کے متعلق یہ وجہ بتائی کہ حضرت صاحب کی فرزندی میں داخل ہیں۔اس بارہ میں خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری صدر انجمن کی طرف سے ذیل کا اعلان کیا گیا۔اطلاع از جانب صد را مجمن وو برادران السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔حضرت سیدی و مولائی عالی جناب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام بتاریخ ۲۴ ماه ربیع الآخر ۱۳۲۶ ہجری علی صاحبها التحية والسلام مطابق ۲۶ ماه مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل بوقت پا ۱۰ بجے صبح کے بمقام لاہور احمد یہ بلڈنگ میں اس دار فانی سے بعارضہ پرانی بیماری اسہال رحلت کر کے اپنے محبوب حقیقی سے جاملے انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ کا جنازہ بذریعہ ریلوے گاڑی ۵ بجے شام کے لاہور سے بٹالہ لایا گیا۔اور اسٹیشن بٹالہ سے رات کے آخری حصہ میں احباب جنازہ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر قادیان لائے اور دارالامان قادیان میں بعد نماز جنازہ پانچ بجے شام کے درمیان بتاریخ ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء مقبرہ بہشتی میں دفن کئے گئے اناللہ وانا الیہ راجعون۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ