اصحاب احمد (جلد 2) — Page 355
355 ہونے کے سبب سے اس دریافت کے لئے کہ آیا موجودہ جماعت جو قادیان میں ہے اور آئی ہوئی ہے بقیہ حاشیہ: - بے اختیار نکل گیا کہ آپ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کسے منتخب کریں گے۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ نہیں میں تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مگر اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا رائے ہے یعنی وہ آپ کو خلیفہ مقرر کریں گے۔اس پر میں اتفاق سے مایوس ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہے کیونکہ باوجود اس فیصلہ کے جو میں اپنے دل میں کر چکا تھا میں نے دیکھا کہ یہ لوگ صلح کی طرف نہیں آتے۔اور مولوی صاحب کے اس فقرہ سے میں یہ بھی سمجھ گیا کہ مولوی محمد علی صاحب کی مخالفت خلافت سے بوجہ خلافت کے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے جب فیصلہ سے مایوسی ہوئی تو میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نز د یک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی ضرورت نہیں اور یہ ایک مذہبی امر ہے اس لئے آپ جو مرضی ہو کریں ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر ا کٹھے ہو کر اس امر کے متعلق مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔یہ کہہ کر میں کھڑا ہوا اور مجلس برخواست ہوئی۔“ اس بارہ میں مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تحریر فرماتے ہیں: roy حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اکثر بیان فرمایا کرتے تھے کہ حضور پرنور کے وصال کے بعد جب دوسرے روز صبح ۲۷ مئی کو خواجہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحبان وغیرہ قادیان میں آئے سخت گرمی کے دن تھے ان کی خدمت، تواضع اور ناشتہ پانی وغیرہ کا کام میرے ذمہ لگایا گیا۔چنانچہ میں مناسب طریق پر کہ سن کر ان سب کو باغ سے شہر میں لے آیا۔حضرت نواب صاحب کے مکان کے نچلے حصہ کے جنوب مغربی خام دارلان میں بٹھایا۔۔۔اس موقعہ پر خواجہ کمال الدین صاحب نے کھڑے ہو کر نہایت ہی پر سوز تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا کی طرف سے ایک انسان منادی بن کر آیا جس نے لوگوں کو خدا کے نام پر بلایا۔ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے گرد جمع ہو گئے مگر اب وہ ہم کو چھوڑ کر اپنے خدا کے پاس چلا گیا ہے سوال ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔“ بقیہ حاشیہ در حاشیہ: ہے اور اگر وہ نہیں آتے تو ہم دروازہ توڑ دینگے۔میں نے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کھول دیا اور میں نے جماعت کا پیغام پہنچادیا۔وہ سب مسجد میں آگئے اور اسی کے موافق فیصلہ ہو گیا۔(مؤلف)