اصحاب احمد (جلد 2) — Page 354
354 مرزا محمود احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، حضرت میر ناصر نواب صاحب، میر محمد الحق صاحب، مرزا عزیز احمد صاحب خاکسار راقم الحروف۔اوراس میں گفتگو ہوئی اور فرمایا کہ حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ انی معک ومع اهلک پس آپ مشورہ دیں کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے چنانچہ مندرجہ ذیل تصفیہ ہوا۔-۲ ۲۵۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کے خلاف جنہوں نے اظہار کیا ہے اس کو نہیں مان سکتے۔خلیفہ ضروری ہے۔خلیفہ مشروط نہ ہو۔سب متعلقین حضرت مسیح موعود انتخاب میں حصہ لیں گے۔اور یہ بھی تصفیہ ہوا کہ کسی شخصیت پر زور نہ دیا جائے۔کوئی بھی خلیفہ ہواس کی اطاعت کریں گے اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب کے ٹریکٹ کے شائع تسلسل کے قائم رکھنے کی خاطر ذیل کا واقعہ درج کیا جاتا ہے۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں کہ اقارب سے مشورہ کے بعد مولوی محمد علی صاحب کا رقعہ مجھے ملا کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر کچھ گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔میں نے ان کو بلوالیا۔اس وقت میرے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب، خان محمد علی خان صاحب، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب موجود تھے۔مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اور پھر کل کی بات شروع ہوئی۔میں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ لوگ بحث نہ کریں۔صرف اس امر پر گفتگو ہو کہ خلیفہ کون ہو۔اور وہ اس بات پر مصر تھے کہ نہیں ابھی کچھ نہ ہو کچھ عرصہ تک انتظار کیا جاوے۔میرا جواب وہی کل والا تھا اور پھر میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا۔اگر کثرت رائے سے فیصلہ ہونا ہے تو ابھی کیوں کثرت رائے پر فیصلہ نہ ہو۔۔۔۔جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا اور باہر بہت شور ہونے لگا اور جماعت کے حاضر الوقت اصحاب اس قدر جوش میں آگئے کہ دروازہ توڑے جانے کا خطرہ ہو گیا اور لوگوں نے زور دیا کہ اب ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے آپ لوگ کسی امر کو طے نہیں کرتے اور جماعت اس وقت تک بغیر رئیس کے ہے تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ بہتر ہے کہ باہر چل کر جولوگ موجود ہیں ان سے مشورہ لے لیا جائے ہم اس پر مولوی محمد علی صاحب کے منہ سے - حاشیه در حاشیہ مکرم عرفانی صاحب روایت کرتے ہیں (جس کی تصدیق مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کرتے ہیں ) کہ یہ مشورہ نواب صاحب کی کوٹھی کے ایک کمرے میں ہورہا تھا اور جماعت مسجد نور میں جمع تھی تو لوگوں نے کہا کہ شیخ صاحب! ان کو باہر لاؤ۔بند کمرہ میں کیا کر رہے ہیں۔یہ سوال جماعت کا