اصحاب احمد (جلد 2) — Page 317
317 کہ اب جس طرح ہو حضور کو خلافت سے علیحدہ کر دیا جائے۔عید قریب تھی ان واقعات کی اطلاع ہونے پر آپ نے انہیں قادیان بلوایا اور عید کے خطبہ میں انہیں جماعت سے نکالنے کا اعلان کرنے کا ارادہ کیا۔چنانچہ اس موقعہ پر ان لوگوں کی جو قلبی کیفیت تھی وہ ذیل کے خطوط سے ظاہر ہے جو علی الترتیب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب و ڈاکٹر سید محمد محسین صاحب نے ۰۹-۹-۲۹ اور ۰۹-۱۰-۱ کو حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کو تحریر کئے : ”سر دست تو قادیان کی مشکلات کا سخت فکر ہے خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرانے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے اگر اس میں ذرہ بھر بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں۔سب حالات عرض کیئے گئے مگر ان کا جوش فرونہ ہوا اور ایک اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔آپ فرما دیں ہم اب کیا کر سکتے ہیں ان کا منشاء یہ ہے کہ انجمن کالعدم ہو جائے اور ان کی رائے سے ادنی متخالف نہ ہو مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں۔شیخ صاحب اور شاہ صاحب بعد سلام مضمون واحد ہے۔“ قادیان کی نسبت دل کو بٹھا دینے والے واقعات جناب کو شیخ صاحب نے لکھے ہونگے وہ باغ جو حضرت اقدس نے اپنے خون کا پانی دے کر کھڑا کیا تھا ابھی سنبھلنے ہی پایا تھا کہ باد خزاں اس کو گرایا چاہتی ہے حضرت مولوی صاحب ( خلیفہ ایچ اول۔ناقل ) کی محبت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سُن ہی نہیں سکتے وصیت کو پس پشت ڈالکر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پروائی کرتے ہوئے شخصی وجاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے۔سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ملے پر نہ ٹلے۔وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنایا تھا اور جو کہ بڑھے گا اور ضرور بڑھے گا وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے۔سب اہل الرائے اصحاب اپنے اپنے کا روبار میں مصروف ہیں اور حضرت مرزا صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے مرتے ہی سب نے آپ کے احسانات کو بھلا دیا۔آپ کے رتبہ کو بھلا دیا آپ کی وصیت کو بھلا دیا۔اور پیر پرستی جس کی بنیاداً کھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقرر کیا تھا قائم ہو رہی ہے اور مین یہ شعر مصداق اس کے حال کا ہے۔بیکیسے شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست ھر کسے درکار خود بادین احمد کا رنیست کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ یہ تو اللہ کی وحی کے ماتحت لکھی گئی تھی کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی ؟ اگر پوچھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے اللہ رحم کرے۔۔۔۔حالات آمده از قادیان سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب فرماتا ہے کہ بمب کا گولہ دس دن تک چھوٹنے کو ہے جو کہ سلسلہ کو تباہ و