اصحاب احمد (جلد 2) — Page 313
313 تقریباً سب کے سب اور قادیان والوں کا ایک حصہ اس امر کی طرف جھک رہا تھا کہ انجمن ہی جانشین ہے اس روز کی اہمیت اور احباب کا کرب و اضطراب اس وقت کی اہمیت اور نزاکت کا اندازہ اس امر سے ہوسکتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) نے دُعائیں کر کے ان سوالات کا جواب لکھا آپ خلافت کی ضرورت کے عقلاً قائل تھے۔لیکن طبیعت سخت بے قرار تھی آپ فرماتے ہیں کہ سب لوگ مُردہ کی طرح ہورہے تھے اور ہم میں سے ہر ایک اس امر کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا کہ وہ اور اس کے اہل و عیال کو لہو میں پیس دیئے جائیں بہ نسبت اس کے کہ وہ اختلاف کا باعث بنیں۔اس دن دنیا با وجود فراخی کے ہمارے لئے تنگ تھی اور زندگی با وجود آسائش کے ہمارے لئے موت سے بدتر ہو رہی تھی۔میرا حال یہ تھا کہ جوں جوں رات گزرتی جاتی تھی اور صبح قریب ہوتی جاتی تھی کرب بڑھتا جاتا تھا اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا گڑ گڑا کر دُعا کرتا تھا کہ خدایا میں نے گوایک رائے کو دوسری پر ترجیح دی ہے مگر الہی میں بے ایمان بنا نہیں چاہتا۔تو اپنا فضل کر اور مجھے حق کی طرف ہدایت دے۔میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کچھ نہ بتایا تو جلسہ میں شامل ہی نہ ہوں گا۔میری زبان پر قل ما يعبؤ بكم ربي لولاد عاء کم کے الفاظ جاری ہو کر اطمینان وانشراح حاصل ہوا۔یہ رات بہتوں نے قریباً جاگتے ہوئے کائی اور قریباً سب ہی تہجد کے وقت سے مسجد مبارک میں جمع ہو گئے تا کہ دعا کر کے اللہ تعالیٰ سے استقامت چاہیں۔اسقد دردمندانہ دعائیں کی گئیں کہ عرش عظیم ہل گیا ہو گا۔سوائے گریہ و بکا کے اور کچھ سُنائی نہ دیتا تھا۔نماز فجر کے وقت حضرت خلیفتہ المسیح اول کی آمد سے قبل خواجہ صاحب کے رفقاء نے پھر وہی سبق پڑھا کر اونچ نیچ سمجھائی۔نماز میں سورۃ البروج کی تلاوت میں حضور جب اس آیت پر پہنچے کر إِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ اس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہو گیا یوں معلوم ہوتا تھا گویا یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے اور ہر شخص کا دل خشیتہ اللہ سے بھر گیا۔مسجد ماتم کدہ معلوم ہونے لگی۔باوجو دسخت ضبط کے بعض لوگوں کی چھینیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس طرح کرب کا اظہار نہ کیا ہو گا خود حضور کی آواز بھی شدت گریہ سے رُک گئی اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دُہرایا اور تمام جماعت نیم بسمل ہوگئی۔سوائے ازلی اشقیاء کے سب کے دل ڈھل گئے اور ایمان دلوں میں گڑ گیا اور نفسانیت بالکل نکل گئی۔نماز کے بعد حضرت خلیفہ امی اول کی غیر موجودگی میں ان لوگوں نے پھر حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر