اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 293 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 293

293 رخصتانه قارئین کرام پڑھ چکے ہیں کہ حضرت اقدس کی ہر دو صاحبزادیوں کے رشتہ میں تقومی ملحوظ رکھا گیا نہ کہ امارت و تمول۔حضرت اقدس حضرت نوابصاحب کے رشتہ کے لئے دوسری جگہ کوشش فرماتے رہے اور بعض ایک کے قبول کرنے پر زور بھی دیا گیا اسی طرح پہلے سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی عمر کی وجہ سے مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کا رشتہ زیر غور نہ لا گیا اور بعد میں فریقین کی طرف سے دُعاؤں اور استخارہ کے بعد ہی ی تعلق منظور کیا گیا۔یہ ذکر کر دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ صاحبزادی صاحبہ محترمہ کا رخصتانہ بہت ہی سادگی سے عمل میں آیا چنانچہ میاں عبداللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ : ” میری شادی کے روز شام کو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بلا بھیجا چونکہ حضرت والد صاحب ابھی برات کے طریق کو اپنی تحقیقات میں اسلامی طریق نہیں سمجھتے تھے۔اس لئے شہر پہنچا ہی تھا کہ آپ نے واپس بلا بھیجا اور میں حضور ایدہ اللہ کی اجازت سے واپس چلا گیا اور بعد میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ہمشیرہ بوزنیب بیگم صاحبہ دلہن کو دارا مسیح سے دار السلام لے گئیں۔جو 66 حضرت نواب صاحب کا برات کے متعلق جو خیال تھا سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے رخصتانہ کے تعلق میں جو خط آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا اس سے ظاہر ہے اس میں تحریر فرماتے ہیں: میری تحقیق یہی ہے کہ مسنون طریق یہ نہیں کہ دولہا دلہن کو رخصت کرا کے لائے حرام میں نہیں سمجھتا ہاں سنت یہ نظر نہیں آتی۔۔۔چونکہ شادی کو میں ایک مقدس چیز سمجھتا ہوں اس لئے اس میں میرا ایمان یہ ہے کہ مسنون طریق ہی ہونا چاہئے۔“ بعد میں حضرت نواب صاحب برات کے طریق کو بھی اسلامی سمجھنے لگتے ہیں۔اس موقعہ پر آپ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ حضور کے نزدیک اگر یہ طریق مسنون ہے کہ دولہا سسرال کے ہاں دلہن کی رخصت کے لئے جائے تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے لیکن پیغام رساں نے جو بعد میں فتنہ پرداز ثابت ہوا اور مرتد مرا ادھورا پیغام دیا لیکن اس اثناء میں سیدہ محترمہ رخصت ہو کے آگئیں اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ سے فریقین کو ہر طرح محفوظ و مصون رکھا۔فالحمد اللہ علی ذالک۔