اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxxi
۱۹ ہے۔مگر ذرا ان لوگوں کی حالت تو دیکھو۔۔۔۔جنگ احد کے موقع پر جب ایک غلط فہمی کی وجہ سے صحابہ کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ گیا اور کفار کو یہ معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف چندا فراد کے ساتھ میدانِ جنگ میں رہ گئے ہیں تو قریباً تین ہزار کا فروں کا لشکر آپ پر چاروں طرف سے امڈ آیا۔اور سینکڑوں تیراندازوں نے کمانیں اُٹھا لیں اور اپنے تیروں کا نشانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ کو بنالیا تا کہ تیروں کے بوچھاڑ سے اس کو چھید ڈالیں۔اسوقت وہ شخص جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو کھڑا کیا وہ طلحہ تھا۔طلحہ نے اپنا ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا اور ہر تیر جو گرتا تھا بجائے آپ کے چہرہ پر پڑنے کے طلحہ کے ہاتھ پر پڑتا تھا۔اس طرح تیر پڑتے گئے یہاں تک کہ زخم معمولی زخم نہ رہے اور زخموں کی کثرت کی وجہ سے طلحہ کے ہاتھ کے پٹھے مارے گئے اور اُن کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔طلحہ سے کسی نے پو چھا ایک تیر پڑنے سے انسان کی جان نکلنے لگتی ہے لیکن آپ کے ہاتھ پر پے در پے اور متواتر تیر پڑ رہے تھے کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور آپ کے منہ سے سی سی نہیں نکلتی تھی۔طلحہ نے کہا درد بھی ہوتی تھی اور دل سی سی کرنے کو بھی چاہتا تھا مگر میں اس لئے ایسا نہیں کرتا تھا کہ جب انسان ہائے کرتا ہے یا سی سی کرتا ہے تو درد کی وجہ سے ہاتھ ہل جاتا ہے اور میں ڈرتا تھا کہ میرا ہاتھ ہلا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیر لگ جائے گا۔یہی وہ قربانیاں تھیں جنہوں نے صحابہ کوصحابہ بنایا۔یہی وہ قربانیاں تھیں جنہوں نے ان کو وہ درجہ عطا کیا کہ دنیا کے پردہ پر کم ہی مائیں ایسی ہونگی جو شاذ و نادر کے طور پر ایسے بچے جنیں۔دنیا کے لئے دوسرا بہترین موقع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اتر کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعثت کا زمانہ ہے۔جو برکتیں دنیا میں کسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے سوا حاصل نہیں ہوسکتی تھیں آج حاصل ہو سکتی ہیں۔۔۔مومن کی علامت یہ ہوتی ہے کہ ہر دوزخ اس کے لئے جنت بن جاتی ہے۔۔۔۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ سے واپس آرہے تھے تو لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے جب لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوڑ کر واپس آ رہے تھے تو انہیں لوگوں نے طرح طرح کی تکالیفیں دینی شروع کیں اور