اصحاب احمد (جلد 2) — Page 260
260 حضرت ام المومنین علیہا السلام کے حضور نہایت ادب سے مبارکباد عرض کرتا ہوں اور ایسا ہی صاحبزادہ کے واجب الاحترم نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب سلمہ اللہ الوہاب اور اس معز ز محترم خاتون ( جسے خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے یہ شرف عطاء فرمایا کہ وہ حضرت ام المومنین کی واجب الاحترام والدہ بنی اور مسیح موعود جیسا جلیل الشان انسان رشتہ میں اس کا بیٹا قرار پایا) کو صدق دل سے مبارکباد دیتا ہوں اس تعلق اور رشتہ میں میرے مخدوم نواب صاحب سب سے زیادہ مبارک باد کے قابل ہیں کہ جنھوں نے عملی طور پر اپنی وفا داری اور ارادت واخلاص کا وہ کامل نمونہ دکھایا جو ان کی حیثیت کے لوگوں کو بہت کم ملتا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی وہ کچھ دیکھا ہے جس کو ایک زمانہ کچھ عرصہ کے بعد دیکھنے والا ہے۔حقیقت میں نواب صاحب پر یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ ان کی لخت جگر کے لئے وہ شوہر تجویز ہوا جو جری اللہ فی حلل الانبیاء کا لخت جگر ہے اور جس کی رگوں میں فاطمی خون گردش کر رہا ہے اور اسی وجہ سے میں اس تعلق کو قران السعدین کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس تعلق کو ہر طرح اور ہر پہلو سے نہایت ہی مبارک اور مسعود بنادے۔آمین۔دنیا میں نکاح ہوتے ہیں۔امراء اور رؤسا کے بھی ہوتے ہیں بادشاہ اور غربا کے بھی ہوتے ہیں۔مگر اس نکاح میں مجھے بہت سی خصوصیتیں نظر آتی ہیں۔اول یہ کہ صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کا وجود ایک آیت اللہ ہے ان کی پیدائش کی خبر قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے دی اور ایسے وقت دی جب کہ عبدالحق غزنوی سے مباہلہ ہو چکا تھا اور اس نے بھی اپنے ہاں اولاد پیدا ہونے کی پیش گوئی کی تھی چنانچہ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو انوار الاسلام کے صفحہ ۳۹ کے حاشیہ پر حضرت اقدس نے یہ الہام شائع کیا انا نبشرک بغلام یعنی ہم تجھ کو ایک لڑکا پیدا ہونے کی خوشخبری دیتے ہیں اور یہ رسالہ پانچہزار کے قریب شایع ہوا اور جب خوب اشاعت ہو چکی تو ۲۴ مئی ۱۸۹۵ء مطابق ۲۷ ذی قعد ۱۳۲۴۰ھ کو یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور صاحبزادہ صاحب کی ولادت باسعادت ہوئی اور شریف احمد نام رکھا گیا اور ضیاء الحق کے سرورق پر اسے شایع کر دیا گیا۔وو پھر ایک خصوصیت اور ہے نواب صاحب کے مورث اعلیٰ ایک با خدا بزرگ تھے۔جن کا نام شیخ صدر جہاں (رحمۃ اللہ علیہ ) تھا جو بہاول لودھی کے دوران سلطنت میں اسی ملک میں آئے اور بادشاہ وقت نے ان کے زہد و تقا کو دیکھ کر اپنے حسن اعتقاد کی وجہ سے انہیں اپنی لڑکی دیدی اسی طرح پر نواب صاحب نے محض خدا کی رضاء کو اس موقعہ پر مقدم کیا اور اسی طرح شیخ صدر جہاں ایسے با خدا بزرگ کی پوتی مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے کے نکاح میں آئی جو میرا یقین ہے کہ بزرگ موصوف کی روحانیت کا خاص اقتضا اور ان کے اپنے زمانہ کی دعاؤں کا اثر ہو گا جو حضرت مسیح موعود کے کمالات کشفی رنگ میں دیکھ کر ان سے پیوند کے لئے کرتے ہوں گے۔اور پھر جب صاحبزادہ شریف احمد صاحب کے ننھیال کی طرف نظر کرتے ہیں تو وہ