اصحاب احمد (جلد 2) — Page 242
242 کے طریق کے تو ضیح اور زیادہ نہیں ہوسکتا۔مبار کہ بیگم کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ان الہامات کی طرف حضرت نے اپنی ایک نظم میں بھی اشارہ فرمایا تھا جو کہ ۱۹۰۱ء میں چھپی تھی۔چنانچہ ان میں سے چند اشعار اس جگہ نقل کئے جاتے ہیں۔خدایا! اے میرے پیارے خدایا یہ کیسے ہیں پ تیرے مجھ پر عطایا کہ تو نے پھر مجھے یہ دن دکھایا کہ بیٹا دوسرا بھی پڑھ کر آیا بشیر احمد جسے تو نے پڑھایا شفادی آنکھ کو بینا بنا یا شریف احمد کو بھی یہ پھل کھلایا کہ اس کو تو نے خود فرقاں سکھایا چھوٹی عمر پر جب آزمایا کلام حق کو ہے فرفر سنایا تو برس میں ساتویں جب پیر آیا سر پر تاج قرآں کا سجایا ترے احساں ہیں اے ربّ البرایا مبارک کو بھی تو نے پھر جلایا جب اپنے پاس اک لڑکا بُلایا دے کر چار جلدی سے ہنسایا غموں کا ایک دن اور چار شادی فسبحان الذى اخرى الا عادى اور ان کے ساتھ کی ہے ایک دختر ہے کچھ کم پانچ کی وہ نیک اختر کلام اللہ کو پڑھتی ہے فر فر خدا کا فضل اور رحمت سراسر ہوا اک خواب میں مجھ پر یہ اظہر کہ اس کو بھی ملے گا بخت برتر یہی روز ازل سے ہے مقدر لقب عزت کا پاوے وہ مقر ر خدا نے چارلڑکے اور یہ دختر عطا کی پس یہ احسان ہے سراسر اس تقریب سعید کی شمولیت کے لئے لاہور سے معزز دوست شیخ رحمت اللہ صاحب، خواجہ کمال دین صاحب، خلیفہ رجب الدین صاحب، میاں چراغ دین صاحب ( ناظر محاسبہ دفاتر صدرانجمن احمد یہ ) ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب، حکیم محمد حسین صاحب قریشی ، بابو غلام محمد صاحب ، مستری محمد موسیٰ صاحب وغیر ہم بھی ۱۷۸ تشریف لائے تھے۔چونکہ جملہ امور تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ان کے اندراج میں کوئی حرج نہیں۔جیسا کہ خط و کتابت سے ظاہر ہے نکاح بالکل غیر متوقع طور پر اچانک ہوا اس لئے نواب صاحب کو تیاری کا موقعہ نہیں ملا۔اس لئے آپ نے پہلے زیورات مستعار حاصل کئے اور اپنی طرف سے تیار ہو گئے تو مستعار زیورات واپس کر دئے۔زیورات کی تفصیل نواب صاحب کی نوشتہ درج ذیل کی جاتی ہے۔