اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 239 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 239

239 واقعہ کا ذکر کیا۔اس کے بعد ان کی آمد سالانہ اور زیادہ ہو گئی تھی قریباً ۳۷ ہزار سالانہ۔) جس پر ایجاب وقبول مسجد اقصی میں ہوا۔یہ تعلق نواب صاحب کے واسطے بہت ہی خوش قسمتی کا موجب ہوا۔اس تعلق سے بقیه حاشیه - خلق منها زوجھا سے یہ مراد ہے کہ اسی جنس کی بیوی بنائی اس آیت میں اتقواربکم جوفر مایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی اصل غرض تقوی ہونی چاہئے اور قرآن مجید سے یہی بات ثابت ہے۔نکاح تو اس لئے ہے کہ انسان احسان اور عفت کے برکات کو حاصل کرے۔مگر عام طور پر لوگ اس غرض کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ وہ دولت مندی حسن و جمال اور جاہ و جلال کو دیکھتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیک بذات الدین بہت سے لوگ خط و خال میں محو ہوتے ہیں جن میں جلد تر تغیر واقع ہو جاتا ہے۔ڈاکٹروں کے قول کے موافق تو سات سال کے بعد وہ گوشت پوست ہی نہیں رہتا۔مگر عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ عمر اور حوادث کے تحت خط و خال میں تغیر ہوتا رہتا ہے اس لئے یہ چیز نہیں جس پر انسان محو ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی اصل غرض تقومی بیان فرمائی دیندار ماں باپ کی اولاد ہو، دیندار ہو۔پس تقویٰ کرو۔اور رحم کے فرائض کو پورا کرو میں تمہارے لئے نصیحتیں کرتا ہوں۔یہ تعلق بڑی ذمہ داری کا تعلق ہے میں نے دیکھا ہے بہت سے نکاح جو اغراض حُبّ پر ہوتے ہیں ان سے جو اولادہوتی ہے وہ ایسی نہیں ہوتی جو اس کی روح اور زندگی کو بہشت کر کے دکھائے ان ساری خوشیوں کے حصول کی جڑ تقویٰ ہے اور تقوی کے لئے یہ گر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے رقیب ہونے پر ایمان ہو چنانچہ فرمایا ان الله كان عليكم رقيباً۔جب تم یہ یاد رکھو گے کہ اللہ تعالے تمہارے حال کا نگران ہے تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی رہ سے جو تقویٰ سے دور پھینک دیتی ہے بچو گے۔دوسری آیت یہ ہے يَآيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُواللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا - اس میں بھی اللہ تعالیٰ ۱۷۵ تقویٰ کی ہدایت فرماتا ہے اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے کہ پکی بات کہو۔انسان کی بات بھی ایک عجیب چیز ہے جو گا ہے مومن اور گا ہے کا فر بنا دیتی ہے۔معتبر بھی بنا دیتی ہے اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو۔خصوصاً نکاحوں کے معاملہ میں۔اس معاملہ میں پوری سوچ بچار اور استخاروں سے کام لو اور پھر مضبوطی سے اُسے عمل میں لاؤ۔جب تم پوری کوشش کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ = تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جائیں گے۔تمہاری غلطی کو جناب الہیٰ معاف کر دیں گے۔کیونکہ جب تقویٰ ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ دار اللہ تعالے ہو جاتا ہے اور اگر نا فرمانی ہو جائے تو وہ معاف کر دیتا ہے ان معاملات نکاح میں عجیب در عجیب کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔اور دھوکہ دیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کا ہی