اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 218 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 218

218 تہ یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت روز کر مبارک سبحان من یرانی دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اے دوستو پیارو عقبی کو مت بسارو کچھ زاد راہ لے لو۔کچھ کام میں گذارو دنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اتارو روز کر مبارک سبحان من یرانی جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس سے رغبت ہٹاؤ اس سے بس دور جاؤ اس سے یا رویہ اثر رہا ہے جاں کو بچاؤ اس سے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی قرآن کتاب رحماں سکھلائے راہ عرفاں جو اسکے پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں ان پر خدا کی رحمت جو اس پر لائے ایماں یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی ہے چشمہ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت یہ ہیں خدا کی باتیں ان سے ملے ولایت یہ نور دل کو بخشے دل میں کرے سرایت یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی قرآں کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا فکر معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا ہے پیارے صدق و سداد رکھنا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی صرف یہ ایک ہی کوئی کم فخر نہ تھا۔لیکن اللہ تعالے انے اس سے بھی بڑھ کر آپ پر افضال و رحمت نازل کئے اور موسلا دھار بارش کی طرح کئے۔اب حضور کی ایک ہی صاحبزادی باقی تھیں ان کے متعلق ” دخت کرام“ کا الہام ہوا تھا۔جدی طور پر نھیال اور ددھیال دونوں طرف سے پہلے ہی کریم بنت کریم تھیں۔اس الہام سے سسرال کے لحاظ سے دختر کرام بننا اور اپنے اخلاق کریمانہ کے لحاظ سے دُخت کرام ثابت ہونا مراد تھا چنانچہ وہ بھی نواب صاحب کے ایک صاحبزادے کے عقد میں آئیں۔بعد ازاں رشتوں کا سلسلہ اس طور پر چلا کہ اللہ تعالے نے نواب صاحب کی صرف اس اولاد کی نسل جاری کی کہ جو حضرت اقدس کے تعلق اور وساطت سے وابستہ ہے۔چنانچہ میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کے ہاں کسی اولاد کا نہ ہونا افسوس کا باعث ضرور ہے مگر ممکن ہے کہ یہ امر اس وجہ سے ہو کہ اُن کی اہلیہ احمدیت میں داخل نہیں اسی طرح میاں محمد عبدالرحیم خاں صاحب کے ہاں بھی اولا د نہیں ، ان کے گھر سے بھی غیر احمدی ہیں۔اس طرح پر اللہ تعالے نے چاہا کہ آئندہ نواب صاحب کی وہی اولا د بڑھے گی جو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادیوں کی اکیسر