اصحاب احمد (جلد 2) — Page 172
172 اگر انتظام میں ہے تو اس کی اصلاح تمہارے ہی ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ نُوَلَّى بَعْضَ الظَّلِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ یعنی اس طرح ہم ظالموں پر ظالموں کو ولی کرتے ہیں تا کہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتیں پھر فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ پس اپنی اصلاح میں لگو کہ مصلح تمہارا متولی اللہ تعالیٰ تم کو توفیق دے کہ فضل خدا کا سایہ تم پر ہو اس کی کتاب تمہارا دستور العمل ہو۔کرہ زمین پر عزت سے زندگی بسر کرو دنیا کے لئے کمال نور اور ہدایت ہو جاؤ ، اپنی کمزوریوں کے لئے دعا کرو اور کوشش کرو کہ یوسف کی طرح بن جاؤ۔(۲۶ جون ۱۹۰۳ء) یہ تقریر فرما کر حضرت مولانا حکیم صاحب کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے مدرس جناب مولوی مبارک علی صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب کشمیری نے باری باری نظمیں پڑھیں۔بعد اختتام نظم جناب ڈائرکٹر صاحب نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ خدا کے فضل واحسان سے افتتاح کالج کی رسم ادا ہو چکی ہے اور اس خوشی میں آج مدرسہ کو رخصت دی جاتی ہے اس کے بعد دعا کی گئی اور جلسہ برخاست ہوا۔☆** ذیل میں مولوی مبارک علی صاحب کی نظم درج کی جاتی ہے۔نظم مراسد ذکر بنازم بخت بیدارم کہ آفرید مسلماں مرا خدائے جہاں دریں زمانہ بخشید خلعت ہستی که دارد آن شرف بعثت مسیح زماں به فزوں تر از ہمہ جو دو عطا ہمیں کرے که پیش روئے حبیبم شگفتہ دل خنداں نہ از لیاقتم این است و نے ز خوبی من که ست رحمت ایزد کشیدم از احسان بیائے بوسی آن دلستاں مرا آورد بعر معرفت حق نواختم شاداں کر پر آستانه دولت سراسر افگندم چو دیدم از سر طارم خورہدی رخشاں عطا نمود مرا منصب بمدرسته اش نشاند برسر کرسی مجمله استاداں مبارک است پے افتتاح ایں کالج که بر کشاد خدایش میان دار اماں مزد که گوئیمش اکنوں کمال گاه علوم بجا است گرشمرم جنبش پئے صبیاں ہزار رفعت وبرکت نصیب او بادا کہ ہست بانی و حامیش مرسل یزداں