اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 168 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 168

168 امید ہے جیسے کہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا ہے کہ حضرت اقدس نے دعاؤں کا وعدہ کیا ہے۔خدا کی ذات سے بڑی امید ہے کہ یہ کالج بہت جلد ایک یونیورسٹی ہوگا اور اس احمدی جماعت کے لئے ایک بڑا مفید دارالعلوم ثابت ہوگا۔اگر چہ یہ سب کام خدا کے ہی ہیں اور وہی ان کو چلا رہا ہے۔مگر تا ہم ظاہری اسباب کے لحاظ سے طلباء اور ان کے والدین کو اس طرف بہت متوجہ ہونا چاہئے اور اس ثواب کے موقعہ کو ہاتھ سے نہ دینا چاہئے گو کہ یہ کالج چلے گا اور دعاؤں کے ذریعہ سے اس کا نشود نما ہو گا۔مگر تا ہم بدیں خیال کہ ہر ایک اس کارخیر کے ثواب میں سے حصہ لیوے کہا جاتا ہے کہ وہ مالی طور سے امداد دیو ہیں۔یہ تقریر فرما کر ڈائرکٹر صاحب کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور ان کے بعد احمدی جماعت کے فخر حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے تقریر فرمائی۔تقریر حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ نے فرمایا: اَشْهَدُ أَنْ لا إِله إِلَّا الله وحده لا شريكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحمّدًا عبده ورسوله اما بعد ہم تو ہر روز تم کو وعظ سناتے ہیں اور سارا دن اسی میں صرف ہو جاتا ہے۔قرآن شریف کا وعظ بھی خدا کے فضل سے مستقل طو پر جاری ہے۔مگر اس وقت خصوصیت سے مجھے ارشا د ملا ہے کہ کچھ سناؤں تمہید کی ضرورت نہیں ہے۔اس وقت یہ نظارہ میرے سامنے موجود ہے ایک طرف قرآن شریف اور دوسری طرف کرہ ارض پڑا ہوا ہے پھر اوپر سائبان ہے اور ایک طرف وہ لمبی لکڑی کی ہے۔یہی مضمون کافی ہے انسان کو خدا نے بنایا ہے اور اس کے اندر اس قسم کی اشیاء رکھی ہیں کہ اگر ان سب کا نشو و نما نہ ہوتو پھر وہ انسان انسان نہیں رہتا ایک ذلیل مخلوق ہو جاتا ہے لیکن اگر ان خدا کی عطا کردہ قوتوں کا عمدہ نشو و نما ہوتو وہی انسان خدا کا مقرب بن سکتا ہے اور اس کے یہی ذرائع ہیں جو تمہارے سامنے ہیں ( قرآن کی طرف اشارہ کر کے ) یہ پاک کتاب جب نازل ہوئی اس وقت ساری دنیا میں اندھیر تھا۔عرب خصوصیت سے ایسی حالت میں تھا کہ کل دنیا کا روبر است ہو جانا آسان مگر اس کا سدھرنا مشکل سمجھا جاتا تھا۔پر میابنی کے نوحہ میں یہ ایک فقرہ موجود ہے جس میں وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتا ہے کہ تم نے بچے خدا کو چھوڑ دیا دیکھو تمہارے پاس عرب موجود ہیں وہ جھوٹے خداؤں کو نہیں چھوڑ سکتے۔لیکن یہ ایک کتاب ہے جس نے ان عربوں کو ایسا بنایا اور وہ عزت دی کہ وہ دنیا کے ہادی مصلح ، نور اور ہدایت بن گئے۔اس کا ذریعہ صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے واسطے شفا ،نور اور رحمت ہوا۔ید مراد ورزش کی لکڑی اس کا ذکر الحکم پر چہ ۰۲-۶-۲۴ (ص۱۰) پر ہے۔مؤلف