اصحاب احمد (جلد 2) — Page 167
167 علیہ السلام کی خدمت میں تشریف آوری کے واسطے عرض کی تھی آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت بیمار ہوں حتی کہ چلنے سے بھی معذور ہوں لیکن وہاں حاضر ہونے سے بہت بہتر کام یہاں کر سکتا ہوں کہ ادھر جس وقت جلسہ کا افتتاح شروع ہوگا میں بیت الدعا میں جا کر دعا کروں گا۔یہ کلمہ اور وعدہ حضرت خلیفتہ اللہ علیہ السلام کا بہت خوش کن اور امید دلانے والا ہے۔اگر آپ خود تشریف لاتے تو بھی باعث برکت تھا اور اگر اب نہیں لائے تو دعا فرماویں گے اور یہ بھی خیر و برکت کا موجب ہوگی اس قدر تقریر فرما کر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کرسی پر بیٹھ گئے اور اس کے بعد تعلیم الاسلام کالج کے ڈائرکٹر عالی جناب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے اٹھ کر ذیل کی تقریر فرمائی۔“ تقریر نواب محمد علی خاں صاحب ”جناب میر مجلس و حضار جلسہ۔میں اس وقت کالج کے افتتاح کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں مگر بوجہ علالت طبع کے زیادہ دیر نہ بول سکوں گا۔سب سے اول خدا کا احسان ہم پر ہے کہ جس کے فضل سے سب کام چل رہے ہیں۔یہ اُسی کا فضل ہے کہ ہمیں اس سلسلہ میں داخل ہونے کی ہدایت ہوئی اور آخری زمانہ کے آخری امام یعنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سایہ عاطفت میں ہمیں جگہ ملی۔خدا کرے کہ ہم کامل طور پر آخرین منھم میں سے ہو جاویں۔اس کالج کی غرض کوئی عام طور پر یہ نہیں ہے کہ معمولی طور پر دنیاوی تعلیم ہو اور صرف معاش کا ذریعہ اسے سمجھا جائے بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ ایک عالم اس سلسلہ کی تعلیم سے مستفید ہو جو کہ خدا نے قائم کیا ہے دنیوی تعلیم کا اگر کچھ حصہ اس میں ہے تو اس لئے کہ مروجہ علوم سے بھی واقفیت ہو جس سے خدا تعالیٰ کی معرفت میں مدد ملے ورنہ اصل غرض دین اور دین کی تعلیم ہی ہے اور ایک بڑی غرض یہ بھی ہے کہ اپنی احمدی جماعت کے کم سن بچے ابتدا سے دینی علوم سے واقف ہوں اور حضور مسیح موعود کے فیضان صحبت سے فائدہ اٹھا دیں اور بڑے ہو کر اس پاک چشمہ سے ایک عالم کو سیراب کریں جس سے وہ خود سیراب ہو چکے ہیں۔یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ کالج کی موجودہ حالت سب احباب پر ظاہر ہے اس کے کارکنوں نے جو کچھ آج تک کیا ہے وہ کسی انسانی طاقت کا نتیجہ نہیں ہے۔بلکہ سب کچھ محض خدا کے فضل سے ہی ہوا ہے مدرسہ کو کھلے ہوئے پانچ سال ہو گئے۔یکم جنوری ۱۸۹۸ء میں پرائمری سکول کھلا تھا۔اس کے چار ماہ بعد ہی یعنی ہمئی ۱۸۹۸ء سے مدرسہ کو مڈل تک ترقی دی گئی پھر فروری ۱۹۰۰ء میں ہائی سکول ہوا اب اس امر کے اظہار کی خوشی ہے کہ آج وہ دن ہے کہ ہم اسے کالج بنا رہے ہیں یہ ایک فوق العادت ترقی ہے اور صرف حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔علی گڑھ کالج ہندوستان میں ایک بڑا کالج ہے مگر اس نے بھی اس طرح ترقی نہیں کی اور