اصحاب احمد (جلد 2) — Page 149
149 مورخہ ۱۶ راکتو بر ۱۹۰۳ء میں نواب صاحب کے مدرسہ کے لئے اتنی روپیہ ماہوار دینے کا ذکر کیا ہے اس مدد کے وعدہ پر به اختیارات ذیل حضرت نواب صاحب کو ڈائرکٹر مدرسہ مقرر کیا گیا کہ -1 ا۔دس روپے ماہوار سے زیادہ تنخواہ کے ملازمین کی تقرری اور موقوفی اور عمارت یا متفرق اخراجات کے لئے پچاس روپے سے زیادہ کا خرچ ان کی منظوری کے بغیر نہ ہو گا۔عدم موجودگی کونسل ٹرسٹیاں کی صورت میں وہ بجٹ کی منظوری دیں گے مکانات کے نقشوں میں ان کا مشورہ لیا جائے گا اور ان کی رائے کو تر جیح دی جائے گی سکیم میں اگر وہ کوئی مناسب ترمیم کریں تو کمیٹی اسے منظور کرے گی۔انسپکٹر مدرسہ نائب ڈائرکٹر متصور ہوگا اور ڈائرکٹر صاحب کو اختیار ہوگا کہ اگر کوئی دقت دیکھیں تو مناسب ہدایات دے کر انسپکٹر کو معائنہ مدرسہ کی ہدایت کریں۔مدرسہ کی مفصل رپورٹ نواب صاحب کے پاس پہنچتی رہے گی اور ان کی رائے پر خاص توجہ دی جایا کرے گی۔کمیٹی منتظم کونسل ٹرسٹیاں کے ماتحت ہوگی۔تفصیل بالا سے بھی ظاہر ہے کہ مدرسہ کے تعلق میں وسیع اور کلی اختیارات حضرت نواب صاحب کو تفویض کر دیئے گئے تھے۔حالانکہ ابھی آپ مالیر کوٹلہ میں ہی تھے اور اس کے سوا سال بعد آپ نے ہجرت کی گویا کہ یہ یقین کر لیا گیا تھا کہ نواب صاحب با وجود مالیر کوٹلہ میں ہونے کے اس حسن انتظام کی قابلیت رکھتے ہیں کہ مدرسہ کو باحسن طریق جاری رکھ سکیں گے۔شاخ دینیات کا اجراء اور بعض دیگر کوائف اب جب کہ مدرسہ حضرت نواب صاحب کے زیر انتظام آچکا تھا یکم نومبر ۱۹۰۰ء سے اس میں شاخ دینیات کی کھولی گئی گو اس کے کھولنے کی تجویز مارچ ۱۹۰۰ء میں ہو چکی تھی۔اور اس کے لئے مارچ یا اپریل میں نواب صاحب نے پانچ صد روپیہ کی اعانت بھی کی تھی۔جس میں سات طالب علم تعلیم پانے لگے۔مدرسہ میں آخر سالہائے ۱۸۹۸ ء و ۱۸۹۹ء اور ۱۹۰۰ء میں علی الترتیب ۳۹ - ۱۰۵ اور ۲۴ طلبا تھے ، ۱۹۰۰ء میں مڈل کے تینوں طلباء کامیاب ہو گئے تھے جب کہ آریہ سکول قادیان کے دس طلباء میں سے صرف ایک کامیاب ہوا تھا پہلے دو سال فیس نہیں لگائی گئی۔مئی ۱۹۰۰ء سے بورڈنگ کا مستقل طور پر انتظام کیا گیا۔فہیں بورڈنگ مدرسہ سے قریباً یک صدتر اسی روپے کی آمد ہوئی کل آمد ۱۹۰۰ ء مع بقایا قریباً پونے تین ہزار روپیہ اور کل خرچ اس سے قریباً پنتالیس روپے زیادہ ہوا۔اس میں قریباً نو صد رو پیدا اخراجات عمارت بھی تھے جو گذشتہ دوسالوں میں مجموعتہ قریباً سوا گیارہ صد کئے گئے تھے گویا کہ کل اخراجات کے تہائی سے زیادہ کے پورا کرنے کے کفیل ذاتی طور پر