اصحاب احمد (جلد 2) — Page 122
122 ہوتا ہے۔لیکن حضور کی مہمان نوازی اعلیٰ درجہ کی تھی اور برابر چھ ماہ تک رہی۔کھانا بہترین ہوتا تھا اتنے لمبے عرصہ کی مہمان نوازی کے بعد بھی حضور نے بصد مشکل اور والد صاحب کے بار بار اصرار کرنے پر گھر پر کھانے کا اپنا انتظام کرنے کی اجازت دی ور نہ حضور یہی پسند فرماتے تھے کہ یہ مہمان نوازی بدستور جاری رہے۔“ مکرم میاں محمد عبداللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ چھ ماہ تک پانچ پانچ چھ چھ کھانے حضور کے ہاں سے روزانہ تیار ہو کے آتے تھے اور والد صاحب نے بتایا کہ میں اپنے طور پر لنگر خانہ کے لئے رقم دے دیتا تھا تا کہ سلسلہ پر بوجھ نہ ہو۔“ مکرم میاں صاحب موصوف یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ : ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں جب حضرت نواب صاحب قادیان آئے تو اپنے ساتھ خیمے بھی لائے تھے اور غالبا مدرسہ احمد یہ والی جگہ پر لگوائے تھے۔جب ہجرت کے ارادہ سے قادیان آئے اور حضرت اقدس نے دار امسیح کے سیدہ ام متین صاحبہ والے حصے میں آپ کو ٹھہرایا تو حضور نے اس کا ایک کمرہ قالین اور گاؤ تکیہ سے آراستہ کروایا۔دسمبر کے دن تھے مغرب کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب آتے تھے اور مجلس لگتی تھی اور کھانا بھی وہیں کھایا جاتا عجیب پر کیف وسرور مجلس ہوتی تھی۔نواب صاحب فرماتے تھے کہ حضور کا طریق اور سلوک اس قسم کا تھا جیسے مشفق باپ کا اپنے بیٹوں سے ہوتا ہے بے تکلفی والی فضاء ہوتی تھی (سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اسے پڑھ کر تحریر فرماتی ہیں کہ یہی ذکر اور نقشہ نواب صاحب بیان کرتے تھے کمرہ میں ایک گاؤ تکیہ بھی تھا لیکن حضور ایک کونہ میں بیٹھ جاتے تھے پھر تکیہ کون استعمال کرتا میں بھی ایک کو نہ میں بیٹھ جاتا۔تکلف اس مجلس میں نہیں ہوتا تھا۔“ حضور کی شفقت بے پایاں کا گونا گوں رنگ میں اظہار ہوتا رہتا تھا۔حضور کی ہر حرکت وسکون مجسم شفقت اور رحمت تھی اور ہوتی بھی کیونکر نہ جب کہ آپ رحمتہ للعالمین صلعم کے مظہر اتم تھے اور آنحضرت صلحم کے خلق عظیم آپ کے وجود باجود میں جلوہ گر تھے۔آنحضرت صلعم بچوں کے ساتھ ان کے مناسب حال پیار اور شفقت کی باتیں کرتے تھے جیسے ایک بچہ سے اس کی چڑیا کی بابت دریافت کرتے ہوئے فرمایا ی بــا عُمير مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ اسی طرح مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب سناتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب حضور کے پاس گئے تو حضور نے لفظ مرغی “ لکھ کر ہمارا امتحان لیا اور فرمایا کہ پڑھ کے بتاؤ۔چنانچہ ہم میں سے ایک نے پڑھ لیا۔پھر حضور نے دریافت فرمایا کہ ہمیں جیب خرچ ملتا ہے یا نہیں۔ہم نے