اصحاب احمد (جلد 2) — Page 105
105 صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: بقیہ حاشیہ : - ہوا۔لکھا ہوا تو سوائے ن وض کے اور کچھ پڑھا نہ گیا اور خواب بھی سارا یاد نہیں رہا۔اخیری فقرہ یا در ہاوہ یہ تھا۔ان اللہ علیم حکیم آج شب کو خداوند تعالیٰ ) نے ) فیصلہ ہی کر دیا ہے اور اب حضرت اقدس فرماتے ہیں۔اب بار بار اسی مطلب کے واسطے دعا کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے گستاخی کرنا ہے۔الہام جو آج رات کو ہوا وہ یہ ہے ان الله علی کل شی قدیر۔پھر کشفی طور پر یہ معلوم ہوا قُل كُونو اللہ قَانِتِنُ - اول کے تو یہ معنی ہیں کہ اللہ سب چیز پر قادر ہے۔دوسرے کے یہ ہیں کہہ دے کہ وہ اللہ کے فرمانبردار ہو جائیں یعنی دعا تو قبول ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ کی منشاء جناب کے مدعا براری کے لئے پائی جاتی ہے۔مگر شرط یہ لگائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پورے پورے فرماں بردار ہو جاؤ۔اب سب بات آپ پر آن پڑی ہے آپ کو چاہیئے کہ ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کو اپنا شیوہ بنائیں۔حضرت اقدس کل خود ایک خط جناب کی خدمت میں تحریر فرما دیں گے۔۔۔أخر العباد خدا بخش۔نوٹ : حضرت اقدس کے ۹۳ - ۳ - ۲۵ کے مکتوب میں کُونُوا نہیں بلکہ قُومُوا مرقوم ہے۔۲- حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں۔بسم الله الرّحمن الرّحيم الحمد لولّيه والصلوة والسلام على نبيه و آله ـ جناب مکرم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عبداللہ فخری کا خباثت اور شرارت اور نا قابل عفو گستاخی سے بھرا ہوا خط خدمت میں ارسال کرتا ہوں جو کل کی ڈاک میں موصول ہوا مجھے افسوس ہے کہ اس ناپاک خط کے پڑھنے سے آپ کو تکلیف ہوگی۔گستاخ بے ادب کو اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اس میں مخاطب کرنے کا کونسا حل ہے۔بہر حال امید ہے کہ آپ اسے سمجھائیں گے۔ایک ہفتہ ہوا لا ہور سے ایک بی اے نو جوان بنوں کا رہنے والا بڑا تیز طبع ہمارے حضرت کو دیکھنے کے لئے ( آیا ) دوسرے روز جمعہ تھا۔بعد از جمعہ اس نے رخصت مانگی۔حضرت کے دل میں القاء ہوا کہ اس کے لئے دعا کرو۔دعا کی معاً اس کا قلب تبدیل کیا گیا اور بیعت کی درخواست کی اور بفضل اللہ زمرہ مخلصین عباد میں شامل ہو گیا۔والحمد لله علی ذلک رسالہ دعا ابھی لکھا جارہا ہے۔آپ کے کرم سے انگریزی اخبار برابر دیکھنے میں آتا ہے۔اگر مرزا خدا بخش صاحب خدمت میں ہوں سلام علیکم اور میری امانت جلد مجھے پہنچا ئیں مجھے سخت ضرورت ہے۔عاجز عبدالکریم ۱۹ را پریل۔