اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 84 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 84

84 ۱۸۹۹ء میں حضور نے ستارہ قیصریہ کتاب تصیف کر کے ملکہ کی خدمت میں بھجوائی۔اس میں بھی تحفہ قیصریہ کی طرح حق تبلیغ ادا کیا گیا تھا۔جیسا کہ ہم نواب صاحب کی نوجوانی اور طالب علمی کے حالات میں ذکر کر چکے ہیں آپ کی طبیعت میں اس قسم کا جوش تھا کہ خصوصاً مسلمانوں پر ظلم ہوتا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔لیکن فطرت صحیحہ کے علاوہ حضرت اقدس کی تعلیم کے زیر اثر آپ باغیانہ خیالات کے حد درجہ مخالف رہے چنانچہ ایک عزیز کو آپ نے ایسے خیالات میں مبتلا پا کر اس بارہ میں بہت کچھ وعظ ونصیحت کی جشن جو بلی کے موقعہ پر نواب صاحب نے مالیر کوٹلہ میں بہت خوشی منائی اس بارہ میں آپ کی رپورٹ حضرت اقدس نے جلسہ احباب میں شائع فرمائی ہے۔جو درج ذیل ہے: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم طبیب روحانی مسیح الزمان مکرم معظم مسلمکم اللہ تعالی۔السلام علیکم۔حسب الحکم حضور کل حال متعلق جو بلی عرض کرتا ہوں۔۲۱ ۲۲ / جون یعنی دو دن جشن جو بلی کے لئے مقرر ہوئے تھے چونکہ گورنمنٹ کا حکم تھا کہ کل رسوم متعلق جو بلی ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو پوری کی جائیں۔اس لئے سب کچھ ۲ کو کیا جانا قرار پایا۔ریاست مالیر کوٹلہ میں جیسے رئیس اعظم وفادار رہے ہیں ویسے ہی خوانین بھی وفادار اور عقیدت مند گورنمنٹ کے رہے ہیں۔اور بہت مواقع میں اس کا ثبوت دیا ہے بلکہ بعض جگہ خود لڑائی میں شریک ہو کر گورنمنٹ کی اعانت کی ہے۔اب چونکہ لڑائی کا موقعہ تو جاتا رہا ہے اب بموجب حالت زمانہ ہم لوگ ہر طرح خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ہم ایسا کیوں نہ کریں جب کہ اس گورنمنٹ کا ہم پر خاص احسان ہے وہ یہ کہ سکھوں کے عروج کے زمانہ میں سکھوں نے اس ریاست کو بہت دق کیا تھا اور اگر وقت پر جنرل اختر لونی صاحب ابر رحمت کی طرح تشریف نہ لے آتے تو یہ ریاست کبھی کی اس خاندان سے نکل کر سکھوں کے ہاتھ میں ہوتی۔پس ہمارا خاندان تو ہر طرح گورنمنٹ کا مرہون منت ہے اور اب یہ سلسلہ بسبب حضور اور زیادہ ہو گیا اور جو احسانات گورنمنٹ کے ہماری جماعت پر ہیں وہ قند مکرر کا لطف دینے لگے تو مجھ کو ضروری ہوا کہ اپنے ہمسروں سے بڑھ کر کچھ کیا جائے۔اول۔چراغاں صرف قریب کی مسجد پر اور اپنے رہائشی مکان پر بہت زور سے کیا گیا۔بلکہ ایک مکان بیرون شہر جو ایک گاؤں سروانی کوٹ نام میں میرا ہے اس پر بھی کیا گیا۔کل مکانوں پر اول سفیدی کی گئی اور مختلف طرز پر چراغ نصب کئے گئے اور ایک دیوار پر چراغوں میں یہ عبارت لکھی گئی۔Empress یعنی خدا تعالی ہماری قیصرہ کو سلامت رکھے۔قریباً تمام شہر سے بڑھ کر ہمارے ہاں روشنی کا اہتمام تھا مگر عین وقت پر ہوا کے ہونے سے ۲۲ کو وہ روشنی نہ ہوسکی۔اس لئے تمام شہر میں ۲۳ کو روشنی ہوئی مگر اس روز God save our