اصحاب احمد (جلد 2) — Page 74
74 بہت ہیں جن کے دل میں شبہات پیدا ہوتے ہیں اور وہ ان کو اخلاقی جرات کی کمی کی وجہ سے اُگل نہیں سکتے۔مگر نواب صاحب کو خدا تعالیٰ نے قابل رشک ایمانی قوت اور ایمانی جرأت عطا کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ اگر کسی شخص کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہو تو اُسے قے کی طرح باہر نکال دینا چاہیے۔اگر اسے اندرہی رہنے دیا جائے تو بہت برا اثر پیدا کرتا ہے۔غرض حضرت نواب صاحب کے اس سوال سے جو انہوں نے حضرت اقدس سے کیا ان کے مقام اور مرتبہ پر کوئی مضر اثر نہیں پڑتا بلکہ ان کی شان کو بڑھاتا ہے اور واقعات نے بتادیا کہ وہ خدائے تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اپنے ایمان میں بہت بڑے مقام پر تھے۔اللَّهُمَّ زِدْفَزِدْ - مولوی عبدالحق غزنوی نے جو صوفی اور صاحب الہام مشہور تھا سلسلہ احمدیہ کی مخالفت کی اور کچھ الہامات شائع کئے اور حضوڑ کے دعویٰ محیت پر مباہلہ کا اعلان کر دیا۔یہ ۱۸۹۱ء کا ذکر ہے۔نواب صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں مباہلہ کی درخواست منظور کرنے کے لیے تحریر کیا تو حضور نے جو جواب تحریر فرمایا اس سے بھی نواب صاحب کی اس اخلاقی جرات اور اعلیٰ مقام کا علم ہوتا ہے۔اور یہ کہ حضور طلب ثبوت کو نا پسند نہ فرماتے تھے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم میرے پیارے دوست نواب محمد علی خاں صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا جس کو میں نے تعظیم دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف حرف پڑھا۔میری نظر میں طلب ثبوت اور استکشاف حق کا طریقہ کوئی ناجائز اور نا گوار طریقہ نہیں ہے۔بلکہ سعیدوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ورطہ مذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے ناخوش نہیں ہوا۔بلکہ نہایت خوش ہے کہ آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امید بڑھتی ہے۔اسی طرح جب دعوی مسیحیت کے بارہ میں حضرت نواب صاحب نے کسی اور طالب حق کی تحریک سے بعض امور دریافت کئے تو حضرت اقدس نے ۱۰؍ دسمبر ۱۸۹۲ء کو جواب تحریر فرمایا جو آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے اس میں فرماتے ہیں۔