اصحاب احمد (جلد 2) — Page 73
الله 73 تفصیل حصہ کا نمبر ۳ منزل اول مقامات مقدسه ( دارایح) قادیان پیمانہ فٹ =۱ اینچ جس میں حضرت نواب صاحب رہتے تھے۔حضرت نواب صاحب کے ملحقہ مکان میں جانے والی سیڑھیاں ہیں۔سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو بوقت نوٹ: حضرت نواب صاحب ہجرت کر کے رخصتانہ انہی سیڑھیوں سے حضرت ام المؤمنین دارا میسج میں جس حصہ میں مقیم رہے اس کا ذکر آپ اطال اللہ بقاء ہا حضرت نواب صاحب کے مکان کی۔۔۔۔۔۔کی روایت میں۔۔۔پر آیا ہے۔وہاں بغیر پیمائش منزل اوّل میں چھوڑنے کے لئے لے گئی تھیں۔کے خاکہ دیا گیا ہے اور وہ خاکہ آپ کی روایت کا (ب) یہ سیڑھیاں پہلے چوبی تھیں آج کل پختہ ایک حصہ ہے۔اب یہاں پیمائش کے مطابق نقشہ دیا اینٹوں کی ہیں۔یہ نچلے صحن میں جس میں الدار کا جاتا ہے۔اس کا ایک حصہ صفحہ ۷۲ پر ہے۔نمبرا تا ۸ کا کو آں ہے جاتی ہیں۔ذکر اس روایت میں ہے اور اس کے مطابق یہاں (ج) مسجد مبارک کی قدیمی سیڑھیاں جو اپنی اصل نمبر دئیے گئے ہیں۔حالت میں ہیں۔ان سیڑھیوں میں گول کمرہ کا غربی تفصیل : (۱) کمرہ نمبر 1 میں حضرت نواب دروازہ کھلتا ہے۔صاحب رہتے تھے۔(د) یہ سیڑھیاں مسجد مبارک سے اس کی چھت کی (۲) کمرہ نمبر ۲ میں بھی حضرت نواب صاحب طرف جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں نہیں تھیں۔یہ مسجد مبارک کی توسیع رہتے تھے۔(۳) کمروہ نمبر ۳ بھی حضرت نواب صاحب کے اوّل کے وقت (۱۹۰۷ء میں ) تعمیر ہوئیں۔زیر استعمال تھا۔(ه) یہ سیٹرھیاں مسجد مبارک کے سامنے کے حصہ (۴) کمرہ نمبر ۴ میں مولوی سید محمد احسن صاحب کی سے نیچے چوک میں جاتی ہیں۔۱۹۰۷ء میں توسیع رہائش تھی۔اول کے وقت یہ سیڑھیاں تعمیر ہوئی تھیں۔لیکن کمرہ نمبر ۳ ۴ کے مغرب کی طرف جو ملحقہ برآمدہ توسیع ثانی (۱۹۴۴ء) کے وقت ان سیٹرھیوں کو وسیع اور کمرہ ہے یہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کر کے قریب ڈ گنا کر دیا گیا۔کے عہد مبارک کے بعد خاندانی ضروریات کے نوٹ : یہ نقشہ دارا سیح" منزل اول کا ایک حصہ ہے ما تحت تعمیر ہوئے۔جس کا ملحقہ مغربی حصہ صفحہ ۲ پر دکھایا گیا ہے۔سیٹرھیاں: (الف) دار مسیح کے اس صحن سے