اصحاب احمد (جلد 2) — Page 69
69 کہ باوجود یکہ حضرت یونس کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی قوم کی عاجزی اور تضرع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا عذاب ٹال دیا اور چونکہ آٹھم نے بھی اس میعاد کے اندر بہت عاجزی اور تضرع کا اظہار کیا بلکہ جس وقت مباحثہ کے آخر پر میں نے کہا تھا کہ ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں اسے پندرہ ماہ کے عرصہ میں ہادیہ میں گرایا جائیگا تو اس نے اسی وقت کان کو ہاتھ لگا کر کہا تھا کہ نہیں میں نے ان کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔وہ اس معیاد میں ہر وقت ڈرتا رہا۔اس طرح اس نے رجوع کر لیا اور شرط رجوع پوری ہو گئی اس لئے اس پر سے عذاب ٹل گیا۔انداز ادو گھنٹے تک حضوڑ نے تقریر فرمائی اور لوگوں کو تسلی ہوگئی۔“ اس موقع پر حضرت نواب صاحب کو بھی ابتلا آیا اور انہوں نے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جس میں ۶۳ اظہار تذبذب تھا۔بہر حال نواب صاحب نے اپنے شکوک کو مخفی نہیں رکھا بلکہ اسے حضرت کے حضور پیش کر دیا جس کا جواب حضور نے ان کو اس طرح پر دیا:۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم محبی اخویم نواب صاحب سردار محمد علی خاں صاحب سلمہۂ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو آج کی ڈاک میں ملا۔آتھم کے زندہ رہنے کے بارے میں میرے دوستوں کے بہت خط آئے لیکن یہ پہلا خط ہے جو تذبذب اور تر ڈد اور شک اور سوء ظن سے بھرا ہوا تھا۔ایسے ابتلاء کے موقعہ پر جو لوگ اصل حقیقت سے بے خبر تھے جس ثابت قدمی سے اکثر دوستوں نے خط بھیجے ہیں تعجب میں ہوں کہ کس قد رسوز یقین کا خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈال دیا اور بعض نے ایسے موقعہ پر نئے سرے بیعت کی اس نیت سے کہ تا ہمیں زیادہ ثواب ہو ( ان دوبارہ بیعت کرنے والوں میں چوہدری رستم علی رضی اللہ عنہ کا نام مجھے معلوم ہے۔عرفانی) بہر حال آپ کا خط پڑھنے سے اگر چہ آپ کے ان الفاظ سے بہت ہی رنج ہوا بقیہ حاشیہ: - نوٹ : ( آئینہ حق نما صفحه ۱۰۰ تا ۱۰۳) مکرم عرفانی صاحب نے یہ کتاب بجواب الہامات مرزا تصنیف مولوی ثناء اللہ امرتسری ۱۹۱۲ء میں شائع کی۔نواب صاحب کے اس مکتوب سے استشہاد کر کے جو اعتراضات آتھم کی پیشگوئی پر کئے ہیں ان کا بھی رڈ اس کتاب میں کیا گیا ہے۔یہاں مکتوب نواب صاحب کا نقل کرتے ہوئے دو جگہ نقطے ڈال دیئے گئے ہیں اس لئے کہ یہ مکتوب کتاب الہامات مذکورہ سے نقل ہوا ہے جس کے مصنف نے بعض تعریفی فقرات خطوط وحدانی میں اپنی طرف سے درج کئے تھے۔” مؤلف