اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 61 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 61

61 جلسہ پر آنیوالے مخلصین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی جلسہ سالانه ۱۸۹۲ء پر پانصد کی تعداد میں لوگ آئے ان میں سے تین صد ستائیس مخلصین کے متعلق جو للہ اس جلسہ میں شریک ہوئے حضور ضمیمہ انجام آتھم میں تحریر فرماتے ہیں: ایک اور پیشگوئی کا پورا ہونا چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو گئی۔یہ تو ظاہر ہے کہ پہلے اس سے اس امت مرحومہ میں کوئی شخص پیدا نہیں ہوا کہ جو مہدویت کا مدعی ہوتا۔اور اس کے وقت میں چھاپہ خانہ بھی ہوتا۔اور اس کے پاس ایک کتاب بھی ہوتی جس میں تین سو تیرہ نام لکھے ہوئے ہوتے اور ظاہر ہے کہ اگر یہ کام انسان کے اختیار میں ہوتا تو اس سے پہلے کئی جھوٹے اپنے تئیں اس کا مصداق بنا سکتے مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی پیشگوئیوں میں ایسی فوق العادت شرطیں ہوتی ہیں کہ کوئی جھوٹا ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا اور اس کو وہ سامان اور اسباب عطا نہیں کئے جاتے جو سچے کو عطا کئے جاتے ہیں۔و شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ء میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں۔در اربعین آمده است که خروج مهدی از قریه کدعہ باشد - قال النبي صلى الله عليه وسلم يخرج المهدى من قرية يقال لها كدعه ويصدقه الله تعالى ويجمع اصحابه من اقصى البلاد على عدة اهل بدر بثلاث مائة وثلاثة عشر رجلاً ومعه صحيفة مختومة اى مطبوعة فيها عدد اصحابه با سمائهم و بلا دهم و خلالهم - یعنی مهدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے ( یہ نام دراصل قادیان کے نام کو مغرب کیا ہوا ہے ) اور پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کریگا اور دُور دُور سے اس کے دوست جمع کرے گا۔جن کا شمار اہل بدر کے