اصحاب احمد (جلد 2) — Page 60
60 60 اس وقت کی قادیان اور جلسہ کے متعلق نواب صاحب کی زبانی سنئے فرماتے ہیں: سمبر۱۸۹۲ء میں قادیان گیا تو مدرسہ احمد یہ مہمان خانہ اور حضرت خلیفۃ امسیح اول کے مکان کی بنیادیں رکھی ہوئی تھیں اور یہ ایک چبوترہ سالمبا بنا ہوا تھا۔اسی پر جلسہ ہوا تھا۔اور کسی وقت گول کمرہ کے سامنے جلسہ ہوتا تھا یہ چبوترہ بھرتی ڈھاب میں سے ڈال کر بنایا گیا تھا۔اور اس کے بعد جتنے مکان بنے ہیں بھرتی ڈال کر بنائے گئے ہیں۔“ نیز فرماتے ہیں: دسمبر ۱۸۹۲ء میں پہلے جلسہ میں شریک ہوا۔ایک روز میں نے حضرت سے علیحدہ (بات) کرنی چاہی گو بہت تنہائی نہ تھی۔مگر حضور کو بہت پریشان پایا یعنی حضرت کو علیحد گی میں اور خُفیہ طور سے بات کرنی پسند نہ تھی۔آپ کی خلوت اور جلوت میں ایک ہی بات ہوتی تھی۔اسی جلسه ۱۸۹۲ء میں حضرت بعد نماز مغرب میرے مکان پر ہی تشریف لے آتے تھے اور مختلف امور پر تقریر ہوتی رہتی تھی۔احباب وہاں جمع ہو جاتے تھے۔اور کھانا بھی وہاں ہی کھاتے تھے۔نماز عشاء تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔میں علماء اور بزرگانِ خاندان کے سامنے دوزانو بیٹھنے کا عادی تھا بسا اوقات گھٹنے دُکھنے لگتے۔مگر یہاں مجلس کی حالت نہایت بے تکلفانہ ہوتی تھی جس کو جس طرح آرام ہوتا بیٹھتا تھا۔بعض پچھلی طرف لیٹ بھی جاتے مگر سب کے دل میں عظمت۔ادب اور محبت ہوتی تھی۔چونکہ کوئی تکلف نہ ہوتا تھا اور کوئی تکلیف نہ ہوتی تھی اس لئے یہی جی چاہتا تھا کہ حضرت تقریر فرماتے رہیں اور ہم میں موجود ہیں۔مگر اذان عشاء سے جلسہ برخاست ہوتا تھا۔“ حضرت نواب صاحب کے مکان پر تقریر وغیرہ کی تصدیق حضرت نانا جان کے بیان مندرجہ آئینہ کمالات اسلام سے بھی ہوتی ہے جو صرف ایک دن یعنی ۲۷ / دسمبر کی کارروائی کے متعلق ہے۔فرماتے ہیں: رات کو مرزا صاحب نے نواب صاحب کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے۔چندلوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جن ۵۸ کے رو برو وہ الہام پورے ہوئے۔“