اصحاب احمد (جلد 2) — Page 59
59 تھا۔اُنہوں نے بیعت کر لی۔حضرت نانا جان نے اس جلسہ کی کیفیت رقم فرماتے ہوئے حضور کی صداقت کے متعلق بہت سے دلائل بیان کئے ہیں۔ان میں تحریر فرماتے ہیں: اس جلسہ پر تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے جن کے چہروں سے مسلمانی نور ٹپک رہا تھا۔امیر ، غریب، نواب، انجئیر ،تھانہ دار، تحصیلدار، زمیندار، سوداگر، حکیم غرض ہر قسم کے لوگ تھے۔مرزا صاحب کے سینکڑوں ایسے دوست ہیں جو مرزا صاحب پر دل و جان سے قربان ہیں۔اختلاف کا تو کیا ذکر ہے رو برواُف تک نہیں کرتے۔“ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے!۔۔۔۔۔اب مولوی صاحب غور فرما دیں کہ یہ کیا، تھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سر آمد علماء پنجاب ( بزعم خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑنا پڑا اور مرزا صاحب کے پاس ( جو بزعم مولوی صاحب کا فر بلکہ اکفر اور دجال ہیں) گھر بیٹھے لاہور۔۔۔بمبئی۔ممالک شمال ومغرب اودھ۔مکہ معظمہ وغیرہ بلاد سے لوگ گھر سے بوریا بدھنا باندھے چلے آتے ہیں۔پھر آنے والے بدعتی نہیں مشرک نہیں۔جاہل نہیں۔کنگال نہیں بلکہ موحد،اہلحدیث ،مولوی، مفتی ، پیرزادے، شریف، امیر، نواب ، وکیل اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمد حسین صاحب کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مُہر لگوانے کے اللہ جل شانہ نے مرزا صاحب کو کس قدر چڑہایا اور کس قدر خلق خدا کے دلوں کو متوجہ کر دیا کہ اپنا آرام چھوڑ کر وطن سے جد اہوکر روپیہ خرچ کر کے قادیان میں آکر زمین پر سوتے بلکہ ریل میں ایک دورات جاگے بھی ضرور ہونگے۔۔۔میں نے ایک شخص کے بھی منہ سے کسی قسم کی شکایت نہیں سنی۔مرزا صاحب کے گرد ایسے جمع ہوتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانے۔جب مرزا صاحب کچھ فرماتے تھے تو ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے۔“ بر خلاف اس کے مرزا صاحب نے شرقاً غر با مخالفین اسلام کو دعوت اسلام کی اور ایسا نیچا کر دکھایا کہ کوئی مقابل آنے جو گا نہیں رہا۔اکثر نیچریوں کو جو مولوی صاحبان سے ہرگز اصلاح پر نہیں آسکے تو یہ کرائی اور پنجاب سے نیچریت کا اثر بہت کم کر دیا اب وہی نیچری ہیں جو مسلمان صورت بھی نہیں تھے مرزا صاحب کے ملنے سے مومن سیرت ہو گئے۔اہلکاروں۔تھانہ داروں نے رشوتیں لینی چھوڑ دیں نشہ بازوں نے نشے ترک کر دیئے کئی لوگوں نے حلقہ ترک کر دیا۔مرزا صاحب کے شیعہ مریدوں نے تیرا ترک کر دیا۔صحابہ سے محبت کرنے لگے۔تعزیہ داری مرثیہ خوانی موقوف کردی۔یہ چار ورقہ رپورٹ آئینہ کمالات اسلام کے آخر پر درج ہے اور دیگر حالات جلسہ سالانہ بھی اسی کتاب میں مرقوم ہیں۔