اصحاب احمد (جلد 2) — Page 58
58 طرف حضرت مخدوم مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی تشریف رکھتے تھے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام نے توضیح مرام کتاب کا وہ مقام نکالا کہ جس پر مولویوں نے ملائکہ کی بحث پر نادانی سے اعتراض کیا تھا اور تقریر شرح وبسط سے فرمائی۔حضرت فاضل امر وہی پر ایک رقت اس وقت ایسی طاری ہوئی کہ جس سے حاضرین کے دل بھی پگھل گئے اور سب پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہوگئی اس تقریر پر تاثیر سے بعض کے دلوں میں جو شک و شبہ تھے وہ نکل گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ دیکھو میر ادعولی مہدی ومسیح موعود ہونے کا میری طرف سے نہیں ہے جیسا کہ تمام انبیاء اللہ علیہم السلام کا دعویٰ نبوت و رسالت اپنی طرف سے نہیں تھا ان کو خدا نے فرمایا تھا اور مجھ کو بھی اپنی اسی سنت کے موافق علی منہاج النبوت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔میں نے حسب ارشاد خداوندی کیا ہے میری اس میں کوئی خواہش یا بناوٹ نہیں ہے۔مخالف لوگ اگر غور کریں اور اپنے بستروں پر لیٹ کر اور تخلیوں میں بیٹھ کر سوچیں تو ان کو معلوم ہو جائیگا کہ جیسا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا دعوئی اللہ تعالیٰ کے حکم اور فرمودہ سے تھا بعینہ اسی طرح میرا دعوی عین وقت پر اللہ جل شانہ کے فرمودہ سے ہے اور لوگوں کے سامنے اتنی نظیریں متقدمین کی موجود ہیں کہ اگر سب ایک جگہ لکھی جائیں تو لکھ نہیں سکتے ہم تھک جائیں مگر وہ ختم نہ ہوں۔پس ان کو ان نظائر پر غور کرنے سے صاف صاف کھل جاوے اور ظاہر و باور ہو جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اپنے دعویٰ میں کا ذب نہیں مفتری نہیں ہوں۔بلکہ صادق ہوں راستباز ہوں۔“ اس جلسہ پر حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) نے وفات اور حقیقت نزول عیسے علیہ السلام کے متعلق تقریر فرمائی۔پھر حضرت سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک قصیدہ مدحیہ سُنایا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر فرمائی۔جس میں علماء کی ان چند باتوں کا جواب دیا جو ان کے نزدیک بنیاد تکفیر ہیں اور آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دیا۔اور مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی وفات کی بابت ۱۸۸۸ء کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر کیا۔نیز جماعت کو باہمی محبت اور تقویٰ وطہارت کے متعلق نصائح کیں۔اسی طرح اس جلسہ میں یورپ و امریکہ میں اسلام کی تبلیغ کے لئے ایک رسالہ کی تالیف اور قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے اور اشاعت اسلام کے لئے ایک اخبار جاری کرنے کے متعلق فیصلے ہوئے اور ان احباب کی چندہ کی فہرست مرتب کی گئی جو وہ اعانت مطبع کے طور پر بھیجتے رہیں گے۔حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ جو اس وقت تک سلسلہ احمدیہ کے سخت مخالف تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اصرار پر جلسہ پر تشریف لائے اور حضوڑ کے اخلاق کریمانہ نے ان کے قلب پر خاص تجلی فرمائی اور وہ دشمن آئے تھے دوست نہیں بلکہ خادم بن گئے گوان کا مقام بوجہ رشتہ بلند