اصحاب احمد (جلد 2) — Page 30
30 والد صاحب رئیس قادیان کے بھی استاد رہے ہیں اور آپ کے والد صاحب کے بھی قادیان کا ذکر کیا بقیہ حاشیہ : - لدہیا نہ ومالیر کوٹلہ ۲۳ / جنوری ۸۴ء سے ۲۰ فروری ۸۴ ء کے درمیان ہوا ہے اور مصنف مجددِ اعظم کا یہ لکھنا کہ " آخر ۴ ۱۸۸ء میں آپ پہلی مرتبہ لدھیانہ تشریف لے گئے۔‘۲۳ واقعاتی لحاظ سے صحیح ثابت نہیں ہوتا ۲۰ فروری ۸۴ کے بعد کے مکتوبات میں پہلی بار سفر لد ہیانہ کے التواء وغیرہ کے متعلق پھر کوئی ذکر نہیں۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقوع پذیر ہو چکا تھا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب روایت مذکورہ (نمبر ۳۳۸) کے آخر پر سفر لدھیانہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔کہ ”غالبا ۱۸۸۴ء کے قریب کا ہوگا۔مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سفر ۸۴ ء کی پہلی سہ ماہی میں ہوا تھا۔اور مکتوبات جن کا حوالہ پہلے دیا گیا ہے انکے یکجائی مطالعہ سے یہ مسیح ثابت ہوتا ہے۔گو میں نے اوپر ۲۳ / جنوری ۸۴ء سے ۲۰ فروری ۸۴ء کا عرصہ سفر لد ہیانہ و مالیرکوٹلہ کیلئے معین کیا ہے لیکن اس عرصہ میں سے بھی بعض دنوں کا استثنا ء ثابت ہے یعنی (الف) ۱۳ فروری ۸۴ ء کو حضور نے میر عباس علی صاحب کو قادیان سے خط لکھا اس میں فرماتے ہیں یہ عاجز دو دن کے رفع انتظار کی غرض سے یہ خط لکھا گیا اور اب میں تَوَ كُلا عَلَى الله امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہوں۔گویا کہ ۱۳ / فروری اور اس سے قبل دو دن یعنی ۱۱ ۱۲ فروری کو حضور لد ہیا نہ میں ۳۳ 66 نہیں تھے۔(ب) حضور مورخه ۱۵ فروری ۸۴ ء کے مکتوب میں میر صاحب کو اپنے امرتسر میں ہونے کا ذکر فرماتے ہیں۔پس سوائے ۱۱ ۱۲ ۱۳، ۱۵ فروری کی تاریخوں کے ۲۳ جنوری سے ۲۰ فروری ۸۴ء کے درمیانی عرصہ میں حضور کے سفر لد بیانہ کی تعیین ہوتی ہے۔حضور ۱۴ اکتوبر ۸۴ء کو میر عباس علی صاحب کی عیادت کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے تھے۔لیکن یہ دوسرا سفر تھا کیونکہ اس سے بہت قبل براہین احمدیہ حصہ چہارم چھپ چکا تھا (۱۴ اکتوبرکو جانے کے ارادہ کا اظہار حضور نے اپنے مکتوب مورخہ ۱/۸ اکتو بر ۴ ۸ء میں کیا ہے نیز اس ضمن میں ملاحظہ ہو حیات احمد جلد دوم نمبر دوم صفحه ۲۰۰۱۹) مزید یہ کہ پہلے سفر کی مزید تعیین بھی بعض امور سے ہوتی ہے۔حضور نے یہ سفر اہل اسلام لدھیانہ کی استدعا پر کیا تھا۔لیکن اس کے بعد مولویان لدھیانہ نے شدید مخالفت کا طریق اختیار کیا چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے رسالہ اشاعت السنتہ میں براہین احمدیہ پر ریویو لکھتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: ( نوٹ لائق توجہ گورنمنٹ) اس انکار وکفران پر باعث لدہیانہ کے بعض مسلمانوں کو تو صرف