اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 667 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 667

667 کی خدمت کے لئے ربوہ جائیں۔مجھے ان کی عدم موجودگی میں جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کیسی تکلیف ہو سکتی ہے۔دراصل اماں جان انہیں کی اماں نہیں ہیں بلکہ میری بھی اماں ہیں۔میرے ساتھ جو محبت اور پیار کا سلوک انہوں نے کیا ہے اپنے ساتھ ایک داستان رکھتا ہے۔جب میری شادی ہوئی تو مجھے ایک عورت کے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ میاں کی عمر زیادہ تھی یعنی میرے والد کی۔تم چھوٹی عمر والے داماد ہو تم مجھ سے شرمایا نہ کرو تا کہ جو کمی رہ گئی ہے اس کو پورا کر سکوں۔پھر آپ نے حقیقی ماں بن کے دکھا دیا۔YY نواب صاحب کا اخلاص والسلام خاکسار محمد عبد اللہ خان حضرت نواب صاحب جتنا حد درجہ کا اخلاص رکھتے تھے اور جو آپ کی تبلیغی جد و جہد اور حالی و مالی خدمات سے ظاہر ہے آپ ابدال کے رنگ میں بہترین سیرت کے مالک تھے اور اس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے کئی رنگ میں کر دیا۔تا ہم آپ کی بعض تحریرات میں سے بعض حصے جو آپ کے اخلاص کو ظاہر کرتے ہیں ان کا ذکر ہمارے لئے مفید ثابت ہو گا آپ حضرت اقدس کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ایک بھائی کو ۱۹۰۲ء میں تحریر فرماتے ہیں: اس کی زبان میں عجیب شرینی ہے اس کے افعال و اعمال میں تاثیر ہے۔پھر روحانی اور جسمانی، مرضوں کا طبیب ہے۔اس چشمہ سے جو محمد کے چشمہ سے نکلا ہے عجیب معرفت کا پانی نکلتا ہے۔پس ایسے وقت میں وہ شخص بڑا ہی محروم ہے جو تحقیقات مذہبی کر کے اس امام سے فائدہ نہ اٹھائے اور اس سے تعلقات پیدا نہ کرے“۔اسی طرح اپنی صاحبزادی بوزنیب بیگم صاحبہ کی شادی کے تعلق میں حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر فرماتے ہیں: حضور کے معاملہ میں تو یہ حالت ہے جب سے بیعت کی ہے معہ جان۔مال۔عزت اپنے آپ کو بیچ چکا ہوں۔حضور پر سب کچھ قربان ہے اور ہرج ہو یا نہ ہو۔نفع ہو یا نقصان ہر حالت میں حضور کے حکم کی فرمانبرداری فرض ہے بلکہ اس میں دل میں بھی کچھ ہر ج رکھنا گناہ“۔