اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 666 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 666

666 ان کے عزیزوں کو۔عزیزوں کی اولا دکو اپنا جاننا کسی کی بُرائی تم نہ سوچنا خواہ تم سے کوئی برائی کرے۔تم دل میں بھی سب کا بھلا ہی چاہنا اور عمل سے بھی بدی کا بدلہ نہ کرنا۔دیکھنا پھر ہمیشہ خدا تمہارا بھلا ہی کرے گا۔حضرت ام المومنین کے مشفقانہ سلوک اور آپ کی برکت سے مالی برکات کے حاصل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مکرم میاں عبداللہ خان صاحب فرماتے ہیں: میرے پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ حضرت ام المؤمنین علیہا السلام کی دعاؤں کے طفیل ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے قلب میں میرے لئے پیار و محبت پیدا کر دیا ہے۔ایک وقت تھا کہ وہ خود بھی دعا ئیں فرماتی تھیں بلکہ ہر ایک کو کہتی تھیں کہ عبداللہ خان کے لئے دعائیں کرو۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے بعد میری گردن جذبات شکر اور محبت سے ان کے حضور جھکی ہوئی ہے۔میری والدہ جب کہ میں چار پانچ سال کا تھا فوت ہوگئی تھیں۔میں ماں کی محبت سے بے خبر تھا لیکن میرے و دو درؤف مولیٰ نے حضرت اماں جان کے وجود میں مجھے بہترین ماں اور بہترین ساس دی۔۔۔کبھی بھی کوئی دقت پیش آئی میں حضرت اماں جان کے حضور دعا کے لئے حاضر ہوتا ہوں۔وہ نہایت تڑپ سے میرے لئے دعائیں فرماتی ہیں“۔مکرم میاں صاحب موصوف نے خاکسار کو ذیل کا خط اپنی قلم سے لکھا۔خط کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ حضرت اماں جان کے وصال کی خبر ابھی آپ کو نہیں دی گئی تھی : بسم الله الرحمن الرحيم رتن باغ۔لاہور ۲۱-۴-۵۲ مکرمی ملک صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ ۴۶۵ نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام علیکم۔آپ کا خط بیگم صاحبہ کے نام ملا۔حضرت اماں جان کی جائی میری بیوی کئی ہفتہ سے ربوہ میں ہیں۔ایک دو دن کے لئے مجھے دیکھنے آئی تھیں پھر واپس چلی گئیں۔میں نے خود ہی ان کو بھجوایا تھا۔اور اتفاق ایسا ہوا کہ ان کے جاتے ہی میری طبیعت دانت کے درد اور بخار سے زیادہ علیل ہوگئی۔لیکن میں نے پھر بھی ان کو اماں جان کی خدمت کے لئے وقف رکھا۔ان کی اپنی بھی یہی خواہش تھی کہ اماں جان