اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 645 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 645

645 دوسرے روز اسی طرح ظہور میں آیا کہ احمدی بازار میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب جا رہے تھے میں پیچھے پیچھے جا رہا تھا کہ نواب صاحب کے پاؤں سے جوتے کا اڈہ اُتر گیا جس پر میں نے جلدی سے پکڑ کر چڑھا دیا تو قبلہ نواب صاحب نے پیچھے دیکھا اور آگے تشریف لے گئے جناب مولوی میر حسین صاحب مرحوم نے یہ خواب اور واقعہ وا پس علی پور جا کر جماعت کے سامنے بیان فرمایا تو اس وقت میں نے آپ سے سنا“۔حضرت حافظ حاجی مولوی احمد اللہ خان صاحب ناگپوری جو بہت ہی نیک اور بزرگ اور قدیمی صحابی تھے۔آپ کا نام معہ اہل بیت اٹھائیسویں نمبر پر فہرست ۳۱۳ صحابہ مندرجہ ضمیمہ انجام آتھم میں مندرج ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں ہی ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔صاحب الہام تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ) کو بچپن میں ناظرہ قرآن مجید پڑہانے کا شرف آپ کو حاصل ہوا بلکہ دار سیح میں رہنے کا بھی ایک بہت بڑا شرف آپ کو یہ حاصل ہوا کہ حضرت ام المومنین نوراللہ مرقدھا نے حضرت اقدس کے وصال کے بعد حضرت اقدس کی طرف سے حج بدل کرانا چاہا اور آپ کی نظر انتخاب حضرت حافظ صاحب پر پڑی۔اور آپ نے حضور کی طرف سے حج بدل کیا۔آپ بہشتی مقبرہ میں آرام فرماتے ہیں۔ایسے بلند پایہ بزرگ کو حضرت نواب صاحب کے حُسن خاتمہ کے متعلق جو الہام آپ کی زندگی میں ہوا اور جس عجیب رنگ میں ہوا وہ آپ کے جنتی ہونے پر صریحاً دال ہے۔حافظ صاحب تحریر فرماتے ہیں : بسم الله الرحمن الرحيم نحمده نصلی علی رسوله الكريم مع السليم از خاکسارذرہ بے مقدا ر احمد اللہ از قادیان محله ضعفاء بخدمت شریف معظم و محترم ومحتشم جناب نواب صاحب نواب محمد علی خان صاحب ! دام اللہ تعالیٰ فیوضہم و برکا تہم آمین۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔واضح خدمت بابرکت ہو کہ آج رات شب جمعہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت حافظ صاحب دار مسیح میں حضرت سیدہ ام متین والے حصہ میں قیام رکھتے تھے اور وہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو قرآن مجید ناظرہ پڑھایا کرتے تھے۔حضرت حافظ صاحب ( موصی ۲۵۱۷) ۱۵/اکتوبر ۱۹۲۶ء کو فوت ہوئے تھے۔