اصحاب احمد (جلد 2) — Page 639
639 طبیعت میں فطرتی سخاوت کا جوش تھا اور بسا اوقات وہ اپنی ضرورتوں پر دوسروں کو مقدم کر لیتے تھے۔میں ان واقعات کا شاہد ہوں جماعت کے غرباء ان کی فیاضیوں سے آسودگی کی زندگی بسر کرتے تھے۔اس قسم کی فیاضیوں نے ان کی مالی حالت پر برا اثر ڈالا مگر وہ ہر حالت میں مستقیم الاحوال رہے۔میں نے کبھی ان کو غمزدہ اور فکر مند نہ پایا۔ہمیشہ چہرہ پر خوشی اور مسرت کھیلتی تھی اور اللہ تعالیٰ پر اس قدر تو کل اور بھروسہ تھا کہ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ انہوں نے سفر کا ارادہ کر لیا اور کچھ ہاتھ میں نہیں مگر آخر وقت پر اللہ تعالیٰ نے عجیب عجیب رنگوں میں سامان کر دیا۔سلسلہ کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے اخراجات اپنی ڈائیریکٹری کے زمانہ میں ایک عرصہ تک چلاتے رہے اور جب حضرت اقدس نے خود محسوس فرمایا کہ مالی ابتلاء نہ آ جائے تو انتظام دوسرے ہاتھوں میں منتقل کر دیا۔صدرانجمن کے کاموں میں اپنی رائے پر مستقل رہتے تھے۔خاکسار عرفانی اسسٹنٹ سیکرٹری عملاً سیکرٹری ہی کے فرائض ادا کر رہا تھا۔اس کی ضروریات کا اہتمام اپنی جیب سے کرتے۔انجمن سے مجھے کچھ بھی اس خدمت کے لئے لینے کی ضرورت نہ آنے دی۔میرے ساتھ جو تعلقات تھے اور میں نے جس قدر قریب سے انہیں پڑھا ہے اس کا تفصیلی ذکر خدا نے چاہا تو حیات نواب محمد علی خاں میں ہوگا۔وباللہ التوفیق۔فتنہ (ماکانہ ) کے وقت آپ نے اپنی خدمات پیش کیں۔خاکسار عرفانی اور مرحوم خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب پنشنر سب حج کے سپر دا ایک خاص خدمت تھی۔اس سفر کے کل اخراجات نواب صاحب نے اپنی جیب سے برداشت کئے اور یو۔پی کی سخت گرمی میں اپنے اس دورہ کو پورا کیا۔اس دورہ کی رپورٹ سلسلہ کی تاریخ میں ایک قیمتی دستاویز ہے۔علم دین کا شوق اس قدر غالب تھا کہ ایک زمانہ میں حضرت حکیم الامۃ رضی اللہ عنہ کو مالیر کوٹلہ بلا کر اپنے پاس رکھا۔حضرت حکیم الامتہ مع اپنے شاگردوں اور خاندان کے افراد کے وہاں رہے اور تمام اخراجات بانشراح صدر آپ نے برداشت کئے۔پھر ایک اور موقعہ پر ان کو طلب کیا۔مگر حضرت اقدس بعض وقتی حالات اور مجبوریوں کی وجہ سے نہ بھیج سکے۔ایک نہ ایک عالم دین کو اپنے پاس رکھتے اور رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کی دُعا کے موافق جوش رکھتے۔چنانچہ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب۔حضرت حافظ روشن علی صاحب زمانہ دراز تک آپ کے پاس رہے۔مرحوم بے انتہا خو بیوں کے مالک تھے اور ان خصوصیات نے ہی ان کو اس مقام پر پہنچایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دامادی کا فخر نصیب ہوا اور وہ کشف پورا ہوا جس کا میں ذکر کر آیا ہوں۔۔۔۔آخری علالت و وفات