اصحاب احمد (جلد 2) — Page 541
541 مفہوم ہوتا تھا کہ مولوی نورالدین صاحب کا کمیٹی میں ہونا ان کو پسند نہیں کیا حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو گئے۔سیر میں میر ناصر نواب صاحب نے اپنے کسی رشتہ دار کے نام ایک لمبا خط سنایا۔حضرت نے بعض جگہ تصحیح اور بعض جگہ تائید نہایت عمدہ تقریروں میں کی۔واپسی پر چونکہ خط ختم نہ ہوا تھا اس لئے مولوی نورالدین صاحب کے مطب کے کمرہ میں خط سنتے رہے اس اثناء میں ایک سیاح انگریز آ گیا۔اس سے بعد خط سننے کے بعض سوالات اس کے مولد ومسکن اور عزم سفر اور خیالات مذہبی ، پیشہ وغیرہ کے متعلق ہوئے جس کا جواب صاف صاف نہ دیا اس کو دو دن کے لئے مہمان رکھا گیا۔ڈیرہ آ کر کھانا کھایا پھر مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے مدرسہ کے متعلق گفتگو کرتے رہے اور انہوں نے) بعض شکایات ظاہر فرما ئیں۔اس کے بعد مہمان انگریز جس کا نام ڈی ڈی ڈکسن ہے آیا فونوگراف سنا۔۔۔عصر کے بعد ڈکسن نے حضرت کی مع مریدین تصویر کھینچی۔اس سے واپس آکر مولوی عبد الکریم صاحب و مولوی محمد علی صاحب سے مدرسہ کی ۳۹۳ مولوی محمد علی صاحب کی جو حالت جون ۰۴ء میں حضرت اقدس کی رؤیا نے ظاہر کی کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ۔یہ بلا وجہ نہ تھی اس کے آثار کا اس ڈائری سے بھی علم ہوتا ہے۔اس تعلق میں مکرم ڈاکٹر عطر الدین صاحب درویش ( سابق ملازم بمبئی کا بیان درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔بیان فرماتے ہیں کہ ”جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تدفین کے بعد ہم واپس شہر روانہ ہوئے۔ابھی بڑے باغ میں ہی سے گزر رہے تھے کہ کسی نے پیچھے سے میرے دائیں کندھے پر ہاتھ رکھا مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ یہ ہاتھ رکھنے والے حضرت خلیفہ اول ہیں۔آپ نے فرمایا میاں عطرالدین ! کیا محمد علی نے بیعت کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مولوی محمد علی صاحب نے آپ کی بیعت کی ہے۔میرا جواب سن کر حضور آگے بڑھ گئے۔میرے ساتھ مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے اور مکرم شیخ حمد تیمور صاحب ایم۔اے تھے۔ان میں سے ایک نے دریافت کیا کہ حضور نے کیا گفتگو فرمائی ہے تو میں نے اس سوال وجواب کا ان سے ذکر کیا۔‘) مسٹر ڈی ڈکسن سیاح کے آنے کا ذکر الحکم جلد نمبر ۴۲ صفحہ ۱۳ کالم ۳ میں اور تصویر اتار نے کا ذکر نمبر ۲۳ صفحہ ۳ کالم ۲ میں ہے۔اور اسی نمبر میں حضرت میر صاحب کے خط کے سننے کا ذکر ہے اور اس گفتگو کا بھی جو سیاح سے ہوئی کچھ حصہ ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے مرقوم ہے۔حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام حسب معمول سیر کو نکلے۔راستہ میں جناب سید ناصر نواب صاحب نے اپنا ایک خط جو انہوں نے اپنے کسی عزیز کے خط کے جواب میں بغرض تبلیغ لکھا ہے سنانا شروع کیا۔