اصحاب احمد (جلد 2) — Page 531
531 کے ایک طبقہ کے لئے ہے۔انسانوں کے تین طبقے ہوتے ہیں ایک وہ لوگ سمجھ بہت موٹی ہوتی ہے۔اور وہ دقائق کو سمجھ نہیں سکتے۔ان کے لئے دین عجائز ضروری ہے اور دوسرے وہ لوگ جو سمجھ دار۔۔۔لئے عقل کی رہبری ضروری ہے اور پھر ان سے بالا تر ہیں جو اہل مکاشفہ ہیں۔حضرت نے فرمایا کہ تائید مجدد کے لئے ضروری ہے۔(۱) نصوص (۲) عقل (۳) تائیدات من اللہ اور پھر۔۔۔۱۷/جنوری ۱۸۹۸ء آج صبح چار بجے بیدار ہوا۔نماز صبح میں شریک ہوا۔قرآن شریف کا ایک ربع پڑھا۔پھر کوئی دس بجے کے بعد حضرت کے ساتھ سیر کو گیا۔سیر سے واپس آکر کھانا کھایا۔حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب بھی شریک طعام تھے۔اور حسب معمول میر ناصر نواب صاحب بھی۔نماز ظہر میں شریک ہوا۔پھر کچھ گھڑی درست کرتا رہا۔نماز ظہر کے بعد آج بھی استخارہ کیا اور حضرت کو دعا کے لئے لکھا کہ میں جو لکھنا چاہتا ہوں اس میں شرح صدر ہو۔اور کوئی لوث نہ ہو اور لوگوں کو فائدہ ہو۔پھر نماز عصر پڑھی۔نماز عصر کے بعد پھر گھڑی درست کرتا رہا۔نماز عشاء پڑھی پھر گھڑی درست کرتا رہا اور ایک گھڑی درست ہو گئی۔۱۸/جنوری ۱۸۹۸ء نماز صبح میں شریک ہوا۔نماز صبح کے بعد حضرت نے بسوال مولوی عبد القادر صاحب اور بسوال مولوی قطب الدین صاحب بڑی بسیط تقریر فرمائی اس کے بعد کوئی نو بجے تشریف لے گئے۔میں ڈیرہ آیا۔قرآن شریف لفظ پڑھا نہیں گیا۔اس تاریخ کی ڈائری میں جہاں کا غذ پھٹا ہوا ہے وہاں نقطے ڈال دئے گئے ہیں۔* مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔حضرت مولوی عبد القادر صاحب بڑے پایہ کے خفی عالم اور صاحب تدریس تھے۔حضرت مولوی ( محمد ابراہیم صاحب ) بقا پوری ان کے تلامذہ میں سے ہیں۔بہت نیک اور مخلص عالم تھے مکتوبات میں ان کا ذکر آتا ہے۔تبلیغ کے شائق تھے رضی اللہ عنہ۔خاکسار عرفانی سے ۱۸۸۹ء سے تعلقات مودت ومحبت تھے۔‘ آپ کا نام فہرستہائے آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ انجام آتھم میں موجود ہے۔حکیم محمد عمر صاحب کے والد بزرگوار تھے۔