اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 507 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 507

507 کے جذبات میں بھی ایک وقار اور متانت پائی جاتی تھی۔اور آپ عدم محبت میں بھی جائز حدود سے تجاوز کو پسند نہ فرماتے تھے اور اس عدم محبت کا مطلب صرف یہ تھا کہ جو محبت کسی شخص سے اسے نیک اور پارسا سمجھ کر دین کی خاطر ہونی چاہئے وہ نہیں ہوتی تھی۔ورنہ دنیوی امور میں تعاون اور ان کی اصلاح کی فکر اور تکالیف میں ہمدردی یہ سب اخلاق فاضلہ برمحل آپ سے ظاہر ہوتے تھے اور غیر بھی اس امر کے قائل افسوس پاک گروہ انبیاء کے مخالفین کو سچ جھوٹ میں تمیز باقی نہیں رہتی۔اور وہ ان کے متعلق کذب بیانی کو شیر مادر کی طرح حلال جانتے ہیں۔یہ گروہ مخالفین جن کی پشت پر مُرجفون فـي الـمـديـنـه جیبا گروه منافقین بھی ہوتا ہے۔ایسی بے پر کی خبریں اڑانے میں مسرت پاتا ہے کہ فلاں نے دین قویم سے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔افسوس کہ مخلص ترین احباب کے متعلق بھی ایسی خبروں کی اشاعت سے ان فتنہ پردازوں کو باک نہیں ہوتا۔چنانچہ بدر مورخہ ۰۸-۹-۱۷ میں مرقوم ہے۔نواب محمد علی خاں صاحب باہر شملہ کی طرف بغرض تبدیلی آب و ہوا گئے ہیں۔پچھلے دنوں اخبار عام کو ایک غلط نہی ہوئی تھی جس کی اس نے تردید کر دی۔“ (صفحہ ۲ کالم ۱) اسی طرح فتنہ احرار کے ایام میں میر عنایت علی صاحب رضی اللہ عنہ کے برادر نسبتی مرزا احمد بیگ صاحب سکنہ لدھیانہ کی طرف سے اپنے احباب میں نواب صاحب کے متعلق ایسا تذکرہ ہوا۔اس کا علم ہونے پر نواب صاحب نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر حق تبلیغ ادا کیا۔لیکن تلخ نوائی سے بکلی احتراز کیا۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم مرزا صاحب سلمکم اللہ۔السلام علیکم سروانی کوٹ۔مالیر کوٹلہ ۲۳ را گست ۱۹۳۵ء آپ سے ملے ایک زمانہ ہو گیا نصف ملاقات کا بھی موقعہ نہ ملا۔یعنی خط وکتابت کا سلسلہ بھی مسدود۔آج عزیزی سید عبدالرحیم کے خط کے ذریعہ ایک پیغام آپ کی طرف سے مجھے ملا کہ عزیزی عائشہ سے آپ نے مذاقاً میرے متعلق کہا تھا کہ میں احمدیت سے برگشتہ ہو گیا ہوں اور شاید بر ہما بھی آپ نے مذاقاً لکھا ہی ہو کہ بر ہما بھی مجھ سے مذاقاً لکھ ہو گیا۔چونکہ احراری لوگوں کے ذریعہ میرا تذکرہ تھا۔اس لئے ایسا ہوا۔ورنہ میں تو آپ کو سچا احمدی سمجھتا ہوں اور کچہری میں میں نے اس کا اظہار کیا تھا وغیر ہا۔یہ خلاصہ ہے سید عبدالرحیم کے خط کا اور آپ نے پیام دیا ہے کہ ”میں کوئی خیال نہ کروں۔“